• صارفین کی تعداد :
  • 4110
  • 9/27/2014
  • تاريخ :

حقوق بشر علوي سے حقوق بشر غربي تک

     محترمہ والٹرور کے خیالات اسلام کےبارے میں

جو لوگ اسلام کے بارے ميں تھوڑي بہت آگاہي رکھتے ہيں ، وہ اچھي طرح سے يہ جانتے ہيں کہ مغربي حقوق بشر کے متعلق ہونے والي بحث، اسلامي نقطہ نظر سے مطابقت نہيں رکھتي ہے - اپني اس تحرير ميں ہم اس موضوع پر روشني ڈالتے ہوۓ دونوں حوالوں سے موضوع کا احاطہ کرنے کي کوشش کريں گے -

اسلامي نقطہ نظر سے آزادي ، مساوات ، امن و سلامتي ، دفاع ، معاشرتي ضروريات ، تعليم و تربيت،ظلم و زيادتي سے بچاو ،عورتوں اور بچوں کي حمايت ،معاشرے کي محروميوں کا ازالہ،خودمختاري اور دوسرے قدرتي اور فطري حقوق انسان کا بنيادي حق تصور ہوتے ہيں -

پيغمبر اسلام کي نظر ميں حقوق بشر

حقوق بشر کے متعلق اسلامي تاريخ کے ابتدا‏ئي دور اور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زندگي کا مطالعہ بہت ہي قابل ارزش اور سياسي انقلاب کي علامت ہے - نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم انساني تاريخ ميں اس جہان کے سب سے اعلي شخص ہونے کي حيثيت سے ہر عقيدے اور ہر رنگ و نسل کے معاشرے کا جس انداز ميں احترام کرتے تھے وہ بےشک قابل ستائش ہے اور اس کي کوئي مثال نہيں ملتي ہے - نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم يہودي کے جنازے کو ديکھ کر کھڑے ہوتے ، بچيوں کو زندہ بگور کرنے کو ايک برا فعل قرار ديتے ،اپنے ساتھيوں کو مکمل اظہار خيال کرنے اور اپنے نقطہ نظر کا دفاع کرنے کي اجازت ديتے ، اپنے ساتھيوں کے ساتھ بہت سادگي کے ساتھ بيٹھتے کہ حلقے ميں کسي بھي طرح کي کوئي برتري کا تصوّر نہ رہتا -

حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے رنگ ونسل، قوميت ،وطنيت، اور اونچ نيچ کے سارے امتيازات کا يکسر خاتمہ کرکے ايک عالمگير مساوات کا آفاقي تصور پيش کيا، اور ببانگ دُہل يہ اعلان کرديا کہ سب انسان آدم کي اولاد ہيں، لہٰذا سب کا درجہ مساوي ہے-

حجة الوداع کے موقع پر سرکار دوعالم حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے تاريخي خطبہ ميں جن بنيادي انساني حقوق سے متعلق وصيت وہدايت فرمائي ان ميں انساني وحدت ومساوات کا مسئلہ خصوصي اہميت کا حامل ہے، ارشاد نبوي ہے:

اے لوگو! يقينا تمہارا پروردگار ايک ہے، تمہارے والد بھي ايک ہيں، تم سب حضرت آدم کي اولاد ہو اور آدم مٹي سے پيدا کيے گئے تھے، يقينا تم ميں اللہ کے نزديک سب سے زيادہ معزز وہ شخص ہے جو تم ميں سب سے زيادہ متقي اور پرہيزگار ہے ، کسي عربي کو کسي عجمي پر کوئي فضيلت حاصل نہيں مگر تقويٰ کي بنا پر- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اسلامي و مغربي طرز زندگي

سيکولر طرز زندگي کا عام ہونا