• صارفین کی تعداد :
  • 4239
  • 6/20/2014
  • تاريخ :

اہل تسنن کا فقہي نظام  ( حصّہ چہارم )

اہل تسنن کا فقہی نظام  ( حصّہ چہارم )

اہلسنت کا چوتھا فقہي مکتب " احمد بن حنبل " سے منسوب اور حنبلي سے موسوم ہے - احمد 164 ہجري قمري ميں پيدا ہوئے ان کا شمار حنابلہ مذہب کے پيشوا اور اہل حديث  کے عظيم فکري رہنماۆں ميں ہوتا ہے - حنبل کہ جنہوں نے شافعي کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کيا تھا ، تيس ہزار احاديث پر مشتمل ايک مسند ، تدوين کرکے دوسروں کي توجہ اپني جانب مبذول کي -  احمد بن حنبل کے فقہ کي اساس کتاب خدا ، سنت ، صحابہ کے فتوے ، قياس اور استحسان پر ہے - ان کے مذہب کے پيروکار زيادہ تر حجاز ميں ہيں - حنبلي مذہب کے مشہور فقہا ميں " احمد بن محمد بن ھاني " جو "اثرم" سے معروف تھے کي جانب اشارہ کيا جا سکتا ہے - 241 ہجري قمري ميں احمد بن حنبل کا انتقال ہو گيا -

 اہل سنت کے ان چار اماموں کے بعد اس فرقے ميں فقہ ميں جمود پيدا ہو گيا اور چوتھي صدي ہجري قمري سے تيرہويں صدي قمري تک صرف ان اماموں کي کتابوں کي شرح ، تفسير اور اس کے حاشيہ نويسي پر توجہ دي گئي - ان مذاہب ميں سے کسي ايک مذہب کے فقيہ نے بھي ان پيشواۆں کے کارناموں ميں کسي نئے نکتے کا اضافہ نہيں کيا - اس بناء پر فقہ اہل سنت ميں اجتہاد ان چار افراد کي تقليد ميں محدود ہو گيا - اگرچہ ان چار افراد ميں اجتہاد کا محدود اور منحصر ہو جانا ہر قسم کي عقلي اور نقلي دليلوں سےعاري تھا تاہم رفتہ رفتہ  سياسي محرکات اور حکام کي سرگرميوں کے ساتھ ہي اس سلسلے ميں ايک اجماع وجود ميں آيا کہ جسے توڑنا کوئي آسان کام نہيں تھا - ليکن تقريبا تيرہويں صدي قمري ميں ، عالم اسلام ميں نماياں تبديلي رونما ہوئي - اور زمانے کے اعتبار سے فقہي احکام  ميں نظر ثاني کي ضرورت نے بعض فقہائے اہل سنت کو اس امر پر مجبور کيا کہ وہ چاروں مذاہب کے رہنماۆں کے آراء و نظريات کي پيروي لازم ہونے کے بارے ميں شک و ترديد سے دوچار ہو جائيں - بہرحال بتدريج اہل سنت کے فقہا نے اس بات کو درک کر ليا کہ صرف ان چاروں فقہا کي تقليد ميں خود کو محصور کرنے کے بارے ميں کوئي عقلي اور نقلي معتبر اور متقن دليل موجود نہيں ہے اور وہ بھي ان چار فقہا کي مانند مسائل ميں اجتہاد کر سکتے ہيں - چنانچہ تقريباً بيس سال پہلے مصر کے الازہر يونيورسيٹي کے چانسلر شيخ محمود شلتوت نے  يہ نظريہ پيش کيا کہ اجتہاد کا دروازہ کھلاہے اور قوي دليل کي موجودگي ميں ايک مذہب يافقہ کے ماننے والوں کے لئے دوسرے مذہب کي طرف رجوع کرنے ميں کوئي امر مانع نہيں ہے اور اس بناء پر انہوں نے قانوني طور پر فتويٰ ديا کہ دوسرے مذہب کي طرح شيعہ فقہ پر بھي عمل صحيح ہے- ان کا يہ اقدام قدر و منزلت کا متقاضي ہے -

شيخ محمود شلتوت مصر کے ايک عظيم مفکر ، دانشور ، محقق ، مفسر اور اديب تھے وہ 1958 ميں الازہر يونيورسيٹي کے چانسلر بنے اور عمر کے آخري ايام تک اسي مقام اور عہدے پر فائز رہے -موجود دور ميں فقہ جعفري کي اعليٰ علمي حلقوں ميں پذيرائي کي ايک قابل ذکر مثال مصر کي عظيم دانشگاہ جامعہ ازہر کے چانسلر مفتي علامہ شيخ محمود شلتوت کا ايک منصفانہ اور جرات مندانہ قدم ہے- شلتوت " دارالتقريب بين المذاہب الاسلاميہ " کے بانيوں ميں سے تھے جسکا مقصد اہل تسنن اور تشيع کے درميان دوستي اور برادري کو قائم کرنا اور تمام رنجشوں اور تفرقہ کو مٹا دينا اور اسلامي مذاہب کے درميان تعلقات کو مستحکم کرنا تھا - دارالتقريب کے مثبت کارناموں ميں سے ايک، اماميہ اور جعفري شيعہ  مذہب اور فقہ کے مطابق عمل کرنے کے جواز سے متعلق  شيخ شلتوت کا فتوا صادر کرنا ہے - يہ عالم و مفکر 70 سال کي عمر ميں 1963 ميں انتقال کرگئے - شيخ شلتوت کے آثار ميں تفسير قرآن کريم ، نہج القرآن في بناء المجتمع اور بہت سي ديگر تصنيفات و تاليفات قابل ذکر ہيں -

قابل ذکر ہے کہ اہل سنت کے چار مذاہب کے علاوہ بعض ديگر مذاہب بھي وجود ميں آئے جيسے زيديہ اور اسما‏عيليہ کہ جنہيں شيعہ مذاہب ميں شمار کيا جاتا ہے ان مذاہب کي بھي فقہ ہے اور اس کے پيروکار ہيں اسي طرح مذہب اباضيہ جو مستقل ہے ، خوارج کي پيداوار ہے - ( ختم شد )

بشکريہ اردو ريڈيو تھران

 


متعلقہ تحریریں:

اہل تسنن کا فقہي نظام ( حصّہ دوّم )

اہل تسنن کا فقہي نظام