• صارفین کی تعداد :
  • 4177
  • 5/7/2014
  • تاريخ :

فقہ اور فقہاء شيعہ کا تشخص اور تعارف  ( حصّہ سوّم )

 بہترین عبادت کیا ہے؟

 صفوي دور ميں فقہ شيعہ کا ايک اور رجحان ، مقدس اردبيلي کي فقہ ہے - احمد بن محمد اردبيلي جو مقدس اردبيلي سے معروف ہيں ، صفوي دور کے عظيم فقہاء ميں سے تھے - وہ اگرچہ فقہي  بنيادوں ميں کوئي تبديلي نہيں لائے تاہم ان کي روش مکمل طور پر مستقل اور خاص تھي - ان کے آثار کي ايک اہم خصوصيت يہ تھي کہ وہ ماضي کے فقہاء کے نظريات پر توجہ ديئے بغير صرف اجتہاد ، تجزيوں اور اپني فکر پر بھروسہ کرتے تھے-  علمي بحثوں ميں ان کي شجاعت ايک طرف ، تو دوسري طرف ان کي علمي تحقيقات اس بات کا باعث بنيں کہ ان کے بعد بہت سے فقہاء نے ان کي ہي روش کو اپنايا - اور وہ " اتباع المقدس " کے نام سے مشہور ہوئے -

علم اصول فقہ کا نيادور " وحيد بہبہاني جيسے فقہاء کے وجود ميں آنے کے ساتھ کمال کي سمت گامزن رہا اور اس طرح سے اجتہاد اصولي کا احياء ہوا - وحيد بہبہاني 1117  قمري ميں اصفہان ميں پيدا ہوئے -يہ شيعہ عالم دين ، ان نابغہ علماء ميں سے تھے جن کو فقہ واصول ميں تبحر حاصل تھا اور انہوں نے بارہويں صدي ہجري ميں اپني وسيع علمي کوششوں کے ذريعے فقہ کے اصولوں کو نئي تبديليوں سے آراستہ کيا اور اخباريوں ، جو اجتہاد کو قبول نہيں کرتے تھے ، کے اصولوں کا مقابلہ کيا - انہوں نے اپني کوششوں کے ذريعے ، فقہ شيعہ کو ايک بار پھر جديد فقہي اور قانوني مکتب کي صورت ميں استوار اور ہم آہنگ کيا-وحيد بہباني کي اہم کاميابي اس کے علاوہ يہ بھي تھي کہ انہوں نے ايسے باعظمت فقہاء کي تربيت کي ہے کہ جنہوں نے اپنے فقہي اور  اصولي بنيادوں پر مبني قيمتي آثار کي تخليق کے ذريعے ، وحيد بہبہاني کے کارناموں کو مزيد مستحکم کرنے ميں شايان شان مدد کي ہے - آيۃ اللہ بہبہاني نےصرف ايسے  30 سے زائد شاگردوں کي تربيت کي  جو اجتہاد کے اعلي مرتبے پر فائز ہوئے -اس کے علاوہ انہوں نےفقہ و اصول ميں  70  سے زائد کتابيں تحرير کيں - اس  گرانقدر شيعہ عالم کي 1205 ہجري قمري ميں وفات ہوگئي - وحيد بہبہاني کامرقد  کربلاميں ہے  - وحيد بہبہاني کي وفات کے بعد ان کے شاگرد " سيد مہدي بحرالعلوم " نے شيعوں کے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے شيعہ مرجعيت اور قيادت کو سنبھالا -بحرالعلوم  1154  قمري ہجري ميں پيدا ہوئے - انہوں نے مقدمات صرف و نحو ، ادب ، منطق ، فقہ اور اصول کو اپني بے مثال کوششوں سے اپنے والد اور ديگر فضلاء اور دانشوروں سے چار سال سے کم عرصے ميں حاصل کرليا - اپنے بلوغ کے اوائل ميں ہي اپنے والد اور اسي طرح وحيد بہبہاني اور صاحب حدائق ،  شيخ يوسف بحراني کے درس خارج ميں شرکت کي اور ان بزرگوں سے شايان شان استفادہ کيا اور پانچ برسوں تک  وسيع اور عميق درس و بحث اور سطح کا مرحلہ طے کرنے کے بعد درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے - وحيد بہبہاني کو، ان کي علمي و معنوي عظمت و منزلت کے سبب شيعہ علماء ميں بہت زيادہ احترام  حاصل ہے - بحرالعلوم کي اصول فقہ ميں بہت زيادہ تاليفات ہيں - فقہ ميں ان کا ايک منظومہ بھي ہے - اس شيعہ عالم دين کے آراء و نظريات، بہت سے فقہاء کي توجہ اور عنايت کا سبب بنے ہيں مثال کے طور پر فقہ ميں ان کي ايک گرانبہا کتاب "مصابيح " ہے جو عبادات و معاملات  کے سلسلے ميں لکھي گئي ہے -  1212  ہجري قمري ، ماہ رجب ميں 57 سال کي عمر ميں ان کا انتقال ہو گيا ان کي قبر  نجف ميں مسجد طوسي ميں ، شيخ طوسي کي قبر کے کنارے ہے - ( ختم شد )

 

 بشکریہ اردو ریڈیو تھران
 

متعلقہ تحریریں:

حضرت امام زمانہ (عج) کي نظر ميں شيخ مفيد کا مرتبہ 

شيعہ کافر ، تو سب کافر