• صارفین کی تعداد :
  • 5726
  • 3/20/2014
  • تاريخ :

اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت(جصہ چہارم)

اعلی خاندان کی اعتقادی ضرورت

اسي طرح اگر آگے جائيں تو ہم حضرت يعقوب(عليہ السلام)  تک پہنچتے ہيں جو اپنے گناہکار مگر نادم اولاد کي حق ميں دعا کرتا ہے جو يوسف (عليہ السلام) کو سالوں سال ان سے دور کيا تھا اور کہتا ہے:

قَالُواْ يا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ 9

« بيٹوں نے کہا: اے ہمارے ابا! ہمارے گناہوں کي مغفرت کے ليے دعا کيجيے، ہم ہي خطاکار تھے- يعقوب نے کہا: عنقريب ميں تمہارے ليے اپنے رب سے دعا کي مغفرت کروں گا، وہ يقينا بڑا بخشنے والا، مہربان ہے-»

حضرت يعقوب (عليه السلام) کے پوٹوں ميں سے موسي اور ہاروں (عليہ السلام) کے درميان برتاۆ اور خاص کرکے ان کي ہمدلي اور ہمکاري کي ذکر ملتي ہيں- قرآن ميں موسي کا سب سے زيادہ تعامل اپنے بھائي کے ساتھ ہے چنانچہ جب موسي عليہ السلام نبوت کي مقام تک پہنچ گئے تو اللہ سے چاہا کہ اس کا بھائي، ہارون، کو اسکا وزير کا مقام عطا کرے-

وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي كَي نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا   10

« اور ميرے کنبے ميں سے ميرا ايک وزير بنا دے، ميرے بھائي ہاروں کو، اسے ميرا پشت پناہ بنا دے، اور اسے ميرے امر (رسالت) ميں شريک بنا دے، تاکہ ہم تيري خوب تسبيح کريں، اور تجھے کثرت سے ياد کريں»

اسي کے مطابق جب موسي (عليه السلام)  طور کے پہاڑ پر جانا چاہتا تھا اپنے قوم کي ذمہ دارياں اپنے بھائي، ہاروں پر چھوڑا:

وَوَاعَدْنَا مُوسَي ثَلاَثِينَ لَيلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيلَةً وَقَالَ مُوسَي لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 11

« اور ہم نے موسي سے تيس راتوں کا وعدہ کيا اور دس ديگر راتوں سے اسے پورا کيا اس طرح ان کے رب کي مقررہ ميعاد چاليس راتيں پوري ہوگئي اور موسي نے اپنے بھائي ہاروں کو کہا: ميري قوم ميں ميري جانشيني کرنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کا راستہ اختيار نہ کرنا-»

جب موسي (عليهماالسلام) طور سے واپس آتے ہيں اور اپنے بني اسرائيل کي بچھڑا پرستي کو ديکھتاہے تو قرآن کريم نے موسي و هارون (عليهماالسلام)کے درميان کا سلوک ايسے تصوير کرتا ہے:

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَي إِلَي قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَي الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يجُرُّهُ إِلَيهِ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُواْ يقْتُلُونَنِي فَلاَ تُشْمِتْ بِي الأعْدَاء وَلاَ تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ 12

« اور جب موسي نہايت غصے اور رنج کي حالت ميں اپني قوم کي طرف واپس آئے تو کہنے لگے: تم نے ميرے بعد بہت بري جانشيني کي، تم نے اپنے رب کے حکم سے عجلت کيوں کي؟ اور (يہ کہہ کر) تخيتياں پھينک دي اور اپنے بھائي کو سر کے بالوں سے پکڑ کر اپني طرف کھينچا ہاروں نے کہا: اے مانجائے! يقينا قوم نے مجھے کمزور بنا ديا تھا اور وہ مجھے قتل کرنے والے تھے لہذا آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ ديں اور مجھے ان ظالموں ميں شمار نہ کريں- موسي نے کہا: اے ميرے پروردگار! مجھے اور ميرے بھائي کو معاف فرما اور ہميں اپني رحمت ميں داخل فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے» (جاري ہے)

 

حوالہ جات:

9-  يوسف: 97 و 98

10- طہ: 29- 36

11- اعراف: 142

12- اعراف: 150-151

 

ترجمہ : منیرہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

تعليم بذريعہ کھيل

بچے کو گالي سے کيسے روکيں ؟