• صارفین کی تعداد :
  • 3409
  • 1/12/2014
  • تاريخ :

حضرت محمد (ص) کا بيانِ حديث کيلئے اہتمام

حضرت محمد (ص) کا بیانِ حدیث کیلئے اہتمام

دنيا کي عظيم ترين شخصيت کہ جس کے لئے رب العزت نے دو جہانوں کو خلق کيا، وہ ہادي برحق کہ جس کا کلمہ آج دنيا کے تمام مسلمانوں کي زبان پر ہے، اس رحمت للعالمين کي شخصيت کي بڑائي کا اندازہ اس سے لگايا جا سکتا ہے کہ جب آپ نے کوئي عام سي بات بھي بيان کرنا ہوتي تو اس کو بيان کرنے سے پہلے سننے والے کے سامنے مقدمہ بيان فرماتے، اس بات کے لئے پہلے ماحول پيدا کرتے، اور جب وہ باتيں بيان کرنے کا موقع آيا جو دين و دنيا اور لوگوں کے لئے بہت ہي حياتي پہلو لئے ہوئے تھيں، تو ان کو موقع کي مناسبت سے بيان کرنے کيلئے آپ نے جو اہتمام فرمايا اس کي نظير نہيں ملتي، اس لئے آپ کو دنيا کا سب سے بڑا روان شناس کہا جا سکتا ہے - آپ نے اپنے کردار و رفتار سے سب پر ثابت کر ديا کہ خدا نے آپکا انتخاب افضل الرسل کے طور پر کيوں کيا- آپ نے چاليس سال تک خدا کے پيغامات کو حديث کي شکل ميں بيان کرنے کے ليے اپنے کردار کو منوايا تب جاکر حديث بيان فرمائي، آپ نے ہر حديث کو بيان کرنے سے پہلے اس کے بيان کے لئے ماحول فراہم کيا، اور يہ روش نہ صرف انتہائي موثر اور عاقلانہ ہے، بلکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے - اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہميں بھي اپنے ماحول کو ديکھ کر بات کرنے کا ڈھنگ سيکھنا ہو گا تاکہ سنت رسول اکرم (ص) پر بھي عمل ہو سکے اور ہم سنت پر عمل کر کے کمال کے درجات کو حاصل کر سکيں -

حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم 570ء دنياوي تاريخ ميں اہم ترين شخصيت کے طور پر نمودار ہوئے اور آپ کي يہ خصوصيت عالمي سطح پر (مسلمانوں اور غيرمسلموں دونوں جانب) بطور مصدقہ تسليم شدہ ہے - آپ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پيشواۆں سے کامياب ترين پيشوا تھے - آپ کي کنيت ابوالقاسم تھي - مسلمانوں کے عقيدہ کے مطابق حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اللہ کي طرف سے انسانيت کي جانب بھيجے جانے والے انبياء اکرام کے سلسلے کے آخري نبي ہيں کہ جنہيں اللہ نے کامل ترين دين کے ساتھ مبعوث فرمايا، تاکہ اس کے ذريعے انسانوں کي ہدايت کر سکيں اور انہيں کمال تک پہنچا سکيں -

آپ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم دنيا کي تمام مذہبي شخصيات ميں سب سے کامياب شخصيت تھے - 570ء مکہ ميں پيدا ہونے والے حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر قرآن کي پہلي آيت چاليس برس کي عمر ميں نازل ہوئي - آپ کا وصال تريسٹھ (63) سال کي عمر ميں 632ء ميں مکہ ميں ہوا،- مکہ اور مدينہ دونوں شہر آج کے سعودي عرب ميں حجاز کا حصہ ہيں - حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبدالمناف کے والد کا انتقال آپ کي دنيا ميں آمد سے قريبا چھ ماہ قبل ہو گيا تھا اور جب آپ کي عمر مبارک چھ برس تھي تو آپ کي والدہ حضرت آمنہ سلام اللہ عليہا بھي اس دنيا سے رحلت فرما گئيں - عربي زبان ميں لفظ "محمد" کے معني ہيں "جس کي تعريف کي گئي"- يہ لفظ اپني اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعريف کرنا- يہ نام آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا- محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبيين، حضور اکرم، رحمت اللعالمين اور آپ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو ديگرالقابات سے بھي پکارا جاتا ہے - (جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

آخري نبي  ص کي آمد

آخري نبي ص انسانيت کے ليۓ رحمت