• صارفین کی تعداد :
  • 4421
  • 2/11/2014
  • تاريخ :

امام مہدي (ع) کا تولد مسيحي خاتون سے! (حصہ دوم)

امام مہدی (ع) کا تولد مسیحی خاتون سے! 2

امام مہدي (ع) کا تولد مسيحي خاتون سے!

اس ميں شک نہيں ہے کہ حضرت صاحب الامر (عج) ايک والا مقام خاتون ہيں اور امام ہادي (ع) نے اپنے ايلچي کو ان کے نام اور ان کي خصوصيات سے آگاہ کرکے بغداد بھيجا تھا؛ چنانچہ انہيں امام معصوم (ع) کي پوري تائيد حاصل تھي- ان کي عظمت ميں شک کيونکر جائز ہوسکتا ہے جبکہ رسول اللہ (ص)، (5) اميرالمۆمنين، (6) امام حسن مجتبي، (7) امام صادق، (8) امام کاظم، (9) اور امام رضا (10) (عليہم السلام) نے انہيں "خيرة الإماء" اور "سيدة الاماء" (کنيزوں کي سردار) کا لقب عطا فرمايا ہے-

خاندان رسالت کي بزرگ خاتون اور امام حسن عسکري (ع) کي پھوپھي حكيمہ خاتون انہيں اپني اور اپني خاندان کي سيدہ کہہ کر پکارتي تھيں- (11)

نرجس خاتون کي عظمت کے اثبات کے لئے يہي کافي ہے کہ خاتم الاوصياء (عج) نے ان کي کوکھ سے جنم ليا ہے اور جو امام (عج) کي عظمت اور شوکت اور اوصاف و خصوصيات سے واقف ہو وہ بآساني اس نتيجے پر پہنچتا ہے کہ آپ (ع) کي والدہ معرفت اور ديني آداب کي مالک تھيں اور اگر وہ ابتدائي ايام ميں عيسائي تھيں اور بعد ميں مسلمان ہوئي ہيں تو اس ميں حرج نہيں ہے کيونکہ وہ اس وقت عيسائي تھيں جب تک اسلام کا پيغام ان تک نہيں پہنچا تھا ليکن مکمل طور پر عيسائي تعليمات پر عمل پيرا تھيں اور جب انھوں نے اسلام کا پيغام سنا اور امام معصوم (ع) کے گھر ميں آئيں تو اسلام کو تسليم کيا؛ اگر آپ اسلام کا پيغام پانے کے بعد بھي عيسائي مذہب کو نہ چھوڑتيں تو يہ اعتراض صحيح ہوسکتا تھا کہ وہ امام معصوم (ع) کي ماں بننے کي اہل نہيں ہيں-

چنانچہ حضرت نرجس خاتون (سلام اللہ عليہا) ايک خالص مسلمان خاتون تھيں اور رسول اللہ (ص) سے لے کر امام حسن عسکري (ع) تک، سب نے ان کي تعريف کي ہے چنانچہ دوسروں کا شک و تردد ناقابل قبول ہے-

 

حوالے جات:

5- کشف الغمہ ـ اربلي ـ ج 3 ص 143- رسول اللہ (ص) نے فرمايا: ميرے باپ فدا ہوں " خيرة الاماء" (بہترين کنيز) کے فرزند پر-

6- معجم الاحاديث المہدي ـ علي الکوراني ـ ج 5 ص 350- اميرالمۆمنين (ع) نے بھي حضور (ص) کا جملہ دہرايا ہے کہ "ميرے باپ فدا ہوں "خيرة الاماء" کے فرزند پر-

7- وہي ماخذ، ج 3 ص 165-

8- وہي ماخذ، ص 393-

9- وہي ماخذ، ج 4 ص 141-

10- وہي ماخذ، ج 5 ص 201-

11- بحارالانوار، ج 51، ص 2-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

امام زمان عليہ السلام کي  حکومت ميں سياسي اور معاشرتي طرز

امام زمان عليہ السلام کا طرز حکومت