• صارفین کی تعداد :
  • 6074
  • 12/16/2013
  • تاريخ :

سيد حسن نصر اللہ  سے بات چيت

سید حسن نصر اللہ  سے بات چیت

سيد حسن نصر اللہ کا خصوصي انٹرويو (حصّہ اول)

حزب لبنان کے سربراہ نے کہا کہ ايراني حکام نے ہميشہ کہا ہے کہ امريکہ کے ساتھ ہماري مشکل ، صہيونيوں کے ساتھ ہماري مشکل سے مختلف ہے، صہيوني حکومت کے بارے ميں ايران کا موقف واضح ٹھوس اور ناقابل تغيير ہے- سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ ايراني حکام نے ہميشہ کہا ہے کہ جب بھي امريکہ نے ہمارے حقوق کو سرکاري سطح پر تسليم کرليا اور علاقائي قوموں کے حقوق کي رعايت کرنے کے لئے آمادہ ہوا ؛ امريکہ کے ساتھ گفتگو کے لئے آمادہ ہيں- سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ امريکہ کے موقف ميں تبديلي رونما ہوئي ہے ليکن ايران کا موقف پہلے جيسا ہي ہے اور ابھي دونوں ملکوں کے درميان تعلقات کے معمول پر آنے کے حوالے سے بات کرنا قبل از وقت ہے اور بہت سارے مسائل باقي ہيں اور يہ اتني جلدي حل ہونے والے نہيں ہيں- حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے ايران کے وزير خارجہ کے علاقائي ملکوں کے حاليہ دورے کے بارے ميں کہا کہ ايران نے حتي ايک دن بھي اپنے ہمسايہ ملکوں سے تعلقات منقطع نہيں کيئے ہيں- سيد حسن نصراللہ نے مزيد کہا کہ ايران نے برسوں قبل سے ہي سعودي عرب کے ساتھ تعلقات کے لئے کوشيشوں کا آغاز کررکھا ہے ، ليکن اس سلسلے ميں انجام پانے والي تمام تر کوششيں ناکام رہي ہيں کيونکہ خود سعودي عرب ان تعلقات کو برقرار کرنا نہيں چاہتا ، پاکستان نے اس حوالے سے جدت عمل کا مظاہرہ کيا تھا ايران نے اس حوالے سے اپني آمادگي بھي ظاہر کي تھي ليکن سعودي عرب نے اس کو مسترد کرديا- حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ شہزادہ نايف کے انتقال سے قبل ايران کے وزير اطلاعات نے سعودي عرب کے دورے ميں ان سے ملاقات کي تھي اور اس نے بھي مفاہمت کے لئے کوشش کي ليکن ماحول سو فيصد منفي تھا- حسن نصراللہ نے مزيد کہا کہ سعودي عرب ابتدا ميں ايران کو دشمن سمجھتا تھا ، ايران پر صدام کے حملے سعودي عرب کي حمايت و سرمايہ کے نتيجے ميں ہي انجام پائے اس جنگ ميں بھي سعودي عرب کي پاليسيوں کو شکست ہوئي اور اس جنگ کے نتائج ايران ، عراق اور حتي ملت فلسطين کو برداشت کرنا پڑے- حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مزيد کہا کہ سعودي عرب کے اقدامات نہيں روکے بلکہ جاري رہے اور 1979 سے ايران کے خلاف سعودي عرب کي جنگ تھمي نہيں ہے؛ سعودي عرب ميں کسي بھي مقابل فريق کے ساتھ براہ راست جنگ ميں داخل ہونے کي جرآت تک نہيں ہے بلکہ سعودي عرب مختلف واسطوں اور رقم خرچ کرکے جنگ ميں حصہ دار ہوتا ہے اور رياض نے مختلف واسطوں کے ذريعے شام ، ايران ، عراق اور لبنان ميں محاذ کھول رکھے ہيں- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

ڈاکٹر حسن روحاني کا مختصر تعارف

سيد محمود گلابدرہ  ايک اہم ادبي شخصيت