• صارفین کی تعداد :
  • 5981
  • 12/13/2013
  • تاريخ :

کندھے کا جام ہونا

کندھے کا جام ہونا

ہمارے ارد گرد بعض اوقات ہمارا سامنا ايسے لوگوں سے ہوتا ہے  جو يہ شکايت کرتے ہيں کہ ان کا بازو کام نہيں کر رہا  ہے - ايسے افراد زندگي کے بہت سارے کام  کاج اس  ليۓ انجام نہيں دے پاتے ہيں کيونکہ انہيں وہ کام کرنے ميں جسماني طور  پر دشواري کا سامنا کرنا پڑتا ہے - مثال کے طور پر ايسے افراد بالوں ميں  آساني کے ساتھ کنگي  نہيں کر پاتے ہيں ، نہاتے ہوۓ مخالف کندھے کي پچھلي طرف کو دھونے سے قاصر ہوتے ہيں ، يا سر سے اوپر اپنے ہاتھ کو نہيں لے جا سکتے ہيں  ، ڈرائيونگ کرتے ہوۓ  انہيں شديد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے  -  ايسے افراد کو اس وقت کندھے ميں درد بھي نہيں ہو رہا ہوتا ہے مگر آزادانہ  طور پر کندھے  ميں حرکت نہ ہونے کي وجہ سے  مختلف کام کاج کي انجام دھي ميں انہيں مشکل پيش آتي ہے -

ان کا يہ مسئلہ بہت پہلے شروع ہوا ہوتا ہے - زندگي کے کسي موڑ پر انہيں کندھے کے ارد گرد  تکليف ہوئي ہوتي ہے - ان کي يہ تکليف کسي بيماري کي وجہ سے ہو سکتي ہے يعني انہيں کوئي بيماري لاحق ہو ئي ہوتي ہے  اور  ثانوي طور پر وہ کندھے کي تکليف ميں مبتلا ہو جاتے ہيں - کسي چوٹ کي وجہ سے  درد کے احساس کو کم کرنے کے ليۓ وہ لمبے عرصے تک  کندھے کو حرکت دينے سے پرہيز کرتے رہے ہونگے -  ايک خاص طولاني مدت تک کے ليۓ يہ جوڑ  جکڑاۆ کي حالت ميں رہتا ہے جس کے بعد اس ميں حرکت کي کمي واقع ہو جاتي ہے -  ايک مدّت کے بعد اس فرد کو درد سے تو نجات مل جاتي ہے مگر  اس کي  کندھے کي حرکت محدود ہو جاتي ہے - کندھے کے جام رہنے کي وجہ سے اس ميں خاص قسم کي تبديلياں رونما ہوتي ہيں  جو درد کے ختم ہو جانے کے  بعد بھي  برقرار رہتي ہيں -

کندھے کي اس خاص حالت کو سن 1934 ء ميں ڈاکٹر گاڈمين  نے Frozen Shoulder    کا نام ديا -   ميڈيکل کي اصلاح ميں اس کو  Adhesive Capsulitis     بھي کہا جاتا ہے -

 

 

 

متعلقہ تحریریں:

کھڑے ہو کر کام کرنے ميں افاديت

کھڑے ہو کر کام کرنا اور اچھي صحت