• صارفین کی تعداد :
  • 2983
  • 10/20/2013
  • تاريخ :

بچوں کي تربيت ميں احتياط

بچوں کی تربیت میں احتیاط

بچے کي تربيت ميں اس کے ارد گرد کا ماحول بہت اثر انداز ہوتا ہے - گھر بچوں کے ليے پہلي تربيت گاہ کي حيثيت رکھتا ہے- بچے والدين کے رد عمل پر غور کرتے اور پھر اس کي تقليد کرتے ہيں- چھوٹے بچے والدين کے بولنے سے سيکھنا شروع کرتے ہيں- اکثر والدين کا خيال ہوتا ہے کہ بچے کو بولنا نہيں آتا اس لئے وہ اس سے زيادہ بات ہي نہيں کرتے بلکہ توتلے لفظوں سے اسے سمجھانے کي کوشش کرتے ہيں ليکن سچ تو يہ ہے کہ چھوٹے بچے بھي شعور کي نعمت رکھتے ہيں اور والدين کے نامکمل الفاظ کو بھي سمجھنے کي کوشش کرتے ہيں-

چند ماہ کے بچے رنگوں اور حرکت کرتي چيزوں کي طرف مختلف آوازوں سے بھي متاثر ہوتے ہيں- جب والدين لفظ پوري طرح سے ادا نہيں کرتے تو پريشان ہوجاتے ہيں-

بڑے ہونے پر والدين کي گفتگو کا انداز بچوں کے ليے زيادہ اہميت رکھتا ہے- اکثر يوں ہوتا ہے کہ والدين بچوں کو ان کے سوال کا تسلي بخش جواب نہيں دے پاتے يا پھر بات کو ٹال کر کسي اور کام ميں مصروف ہوجاتے ہيں- والدين کا يہ رد عمل بھي بچوں کے مشاہدہ کا حصہ بن جاتا ہے اور بعد کي زندگي ميں ان ہي طريقوں کے ذريعے صورتحال اور مواقع کا رد عمل پيش کرتے ہيں- ضرورت اس بات کي ہے کہ والدين بچوں کے سوالوں پر جھجھک کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انہيں تسلي بخش جواب ديں تاکہ اس کے ذہن ميں ادھورے سوال نہ رہيں-

بعض لوگ جب بچوں سے گفتگو کرتے ہيں تو خود بھي بچے بن جاتے ہيں- يہ طريقہ صحيح نہيں ہے کيونکہ اس سے بچوں کي تعليم کو نقصان پہنچتا ہے- مثال کے طور پر بچوں سے بہت سارے حرف جيسے ”‌ ل ، ر ، ق ”‌ صحيح طور پر ادا نہيں ہوتے مثلاً وہ “ريل”‌ کو ”‌ ليل ”‌ کہتے ہيں اور بس آپ بھي ان سے گفتگو کرتے وقت پيار سے ”‌ ريل ”‌ کو ”‌ ليل ”‌ ہي کہنے لگتے ہيں- اس کا نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ بچہ حروف کا صحيح مخزن نہيں سيکھ پاتا اور غلط تلفظ اس کے ذہن نشيں ہو جاتا ہے- ( جاري ہے )