• صارفین کی تعداد :
  • 2689
  • 9/24/2013
  • تاريخ :

عالمي معيشت اور عورت

عالمي معيشت اور عورت

عورت اور ترقي(حصّہ اول)

عورت اور ترقي(حصّہ دوم)

عورت اور ترقي(حصّہ سوم)

عورت اور ترقي(حصّہ چہارم)

عورت اور ترقي(حصّہ پنجم)

زندگي کے تمام شعبوں ميں عورتوں کي غير ضروري شموليت نے جہاں سماجي اور اخلاقي برائيوں کو جنم ديا ہے، وہاں عالمي معيشت پر بھي منفي اثرات مرتب کئے ہيں- عالمي معيشت کو دو واضح خانوں ميں تقسيم کيا جاتا ہے- يعني مينوفيکچرنگ اور سروسز(اشيا سازي اور خدمات)”‌¤ گذشتہ پندرہ بيس برسوں ميں عالمي معيشت ميں سروس سيکٹر کے تناسب ميں اضافہ ہوا ہے- امريکہ کي 70 فيصد معيشت سروس سيکٹر پرمشتمل ہے- سروس سيکٹر کے پھلنے پھولنے کي ايک اہم وجہ ليبر فو رس ميں عورتوں کے تناسب ميں اضافہ بھي ہے- ہوٹل، بنک، جنرل سٹور، کمپيوٹر، اور ديگر خدمات بہم پہنچانے وا لے اداروں ميں عورتوں کي ملازمتوں کا تناسب بہت زيادہ ہے- امريکہ اور يورپ کے ممالک ميں ہر سال جو نئي ملازمتيں نکل رہي ہيں، ان ميں عورتوں کي کھيپ مردوں سے زيادہ ہے- سروسز سيکٹر ميں اضافے سے خام قومي پيداوار ميں تو بظاہر اضافہ ہوا ہے ليکن بالآخر اس کے نتائج حقيقي ترقي کے لئے ضرر رَساں ثابت ہوں گے کيونکہ فقط خدمات ، اشيا سازي کے بغير قومي ترقي ميں اضافہ نہيں کرسکتيں!!

آزادي نسواں اور ويلفيئرسٹيٹ

تحريک آزادي نسواں اور مساوي حقوق کے فتنہ نے امريکہ، يورپ اور بالخصوص سکنڈے نيويا کے ممالک کي فلاحي رياست کو بري طرح متاثر کيا ہے- 1950ء کے عشرے ميں ان ممالک ميں جس طرح رياست کے وسيع فلا حي منصوبے سامنے آئے تھے، ان ميں بتدريج اضافہ ہوتا گيا- 1990ء کے بعد سے يہ صورت ہوگئي ہے کہ برطانيہ، ناروے، سويڈن وغيرہ ويلفيئر پر اٹھنے والے اخراجات ميں مسلسل کمي کر رہے ہيں کيونکہ ان اخراجات کي وجہ سے ان کے بجٹ خسارے ميں جارہے ہيں- يہ واضح کر دينا ضروري ہے کہ ان ممالک کے فلاحي اخراجات کا بيشتر حصہ عورتوں پر خرچ ہوتا ہے- سکنڈے نيويا کے ممالک ميں فلاحي اخراجات کي سب سے بڑي مد بچوں کے Day Careمراکز کا قيام، اور بے نکاحي ماۆ ں کي مالي امداد کے متعلق ہے- ان ترقي يافتہ ممالک ميں علاج و صحت عامہ کي بہتر سہوليات کي وجہ سے شہريوں کي اَوسط عمر ميں اضافہ ہوا ہے جس کي وجہ سے پنشنرزکي تعداد ميں ہوش ربا اضافہ ہوگيا ہے- ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

ايران ميں حجاب کے اثرات

مرد اور عورت کا مشترکہ زندگي