• صارفین کی تعداد :
  • 3525
  • 9/23/2013
  • تاريخ :

قرآن کي نظر ميں دہشت گردي

قرآن کی نظر میں دہشت گردی

اسلام اور مغرب کي نظر ميں دہشت گردي (حصّہ اول)

اسلام اور مغرب کي نظر ميں دہشت گردي (حصّہ دوم)

اسلام اور مغرب کي نظر ميں دہشت گردي (حصّہ سوم)

اسلام اور مغرب کي نظر ميں دہشت گردي (حصّہ چہارم)

2-  ”‌قالَ اَلْقُوا فَلَمَّا اَلْقَوْا سَحَرُوا اَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْہَبُوہُمْ وَ جاۆُ بِسِحْرٍ عَظيمٍ“- موسٰي عليہ السّلامنے کہا کہ تم ابتدا کرو -ان لوگوں نے رسياں پھينکيں تو لوگوں کي آنکھوں پر جادو کرديا اور انہيں خوفزدہ کرديا اور بہت بڑے جادو کا مظاہرہ کيا(سورہ اعراف، آيت 116) - يہاں پر بھي ”‌ استرھبوھم“ کے معني يہ ہيں کہ جادوگر ، لوگوں کو خوف و ہراس ميں ڈالتے تھے -

3-  ”‌وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُوسَي الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْواحَ وَ في نُسْخَتِہا ہُديً وَ رَحْمَةٌ لِلَّذينَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ يَرْہَبُون“ - اس کے بعد جب موسٰي کا غّصہ ٹھنڈا پڑگيا تو انہوں نے تختيوں کو اٹھاليا اور اس کے نسخہ ميں ہدايت اور رحمت کي باتيں تھيں ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرنے والے تھے(سورہ ، اعراف، آيت 154) -اس آيت ميں بھي ”‌يرھبون “ کے معني يہ ہيں کہ ايسے لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہيں اور اس وجہ سے وہ گناہ نہيں گرتے ہيں اور جو کچھ ان الواح ميں لکھا ہے اس پر عمل کرتے ہيں -

4-  ”‌ وَ اَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَ مِنْ رِباطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللَّہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ آخَرينَ مِنْ دُونِہِمْ لا تَعْلَمُونَہُمُ اللَّہُ يَعْلَمُہُمْ وَ ما تُنْفِقُوا مِنْ شَيْء ٍ في سَبيلِ اللَّہِ يُوَفَّ اظ•ِلَيْکُمْ وَ اَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ“ - اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکاني قوت اور گھوڑوں کي صف بندي کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن -اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہيں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے سب کو خوفزدہ کردو اور جو کچھ بھي راہ ہخدا ميں خرچ کرو گے سب پورا پورا ملے گا اور تم پر کسي طرح کا ظلم نہيں کيا جائے گا (سورہ انفال، آيت 60) -يہاں پر ”‌ترھبون“ سے مراد يہ ہے کہ خدا کے دشمنوں کو اپنے آمادہ ہونے اور اپني طاقت کے ذريعہ ڈراو تاکہ وہ تم لوگوں پر حملہ کي جرائت نہ کرسکيں -

5-  ”‌ وَ قالَ اللَّہُ لا تَتَّخِذُوا اظ•ِلہَيْنِ اثْنَيْنِ اظ•ِنَّما ہُوَ اظ•ِلہٌ واحِدٌ فَاظ•ِيَّايَ فَارْہَبُون“ -  اور اللہ نے کہہ ديا ہے کہ خبردار دو خدا نہ بناۆ کہ اللہ صرف خدائے واحد ہے لہذا مجھ ہي سے ڈرو -(سورہ نحل، آيت 51) - يہاں پر ”‌فارھبون“ کے معني يہ ہيں کہ خدا کے عذاب سے ڈرواور کسي سے خوف کا احساس تک نہ کرو-

6-  ”‌ فَاسْتَجَبْنا لَہُ وَ وَہَبْنا لَہُ يَحْيي وَ اَصْلَحْنا لَہُ زَوْجَہُ اظ•ِنَّہُمْ کانُوا يُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ وَ يَدْعُونَنا رَغَباً وَ رَہَباً وَ کانُوا لَنا خاشِعينَ“ -  تو ہم نے ان کي دعا کو بھي قبول کرليا اور انہيں يحيٰي عليہ السّلام جيسا فرزند عطا کرديا اور ان کي زوجہ کو صالحہ بناديا کہ يہ تمام وہ تھے جو نيکيوں کي طرف سبقت کرنے والے تھے اور رغبت اور خوف کے ہر عالم ميں ہم ہي کو پکارنے والے تھے اور ہماري بارگاہ ميں گڑ گڑا کر الِتجا کرنے والے بندے تھے -  (سورہ انبياء ، آيت 90) -اس آيت ميں ”‌رغبت “ سے مراد ، ثواب کي طرف رغبت پيدا کرنا ہے اور ”‌ رھبہ“ بھي عذاب سے ڈرنے کے معني ميں ہے -(جاری ہے)

 


متعلقہ تحریریں:

مغرب ميں اسلام کي اشاعت

مسلم بہن بھائي بڑي آساني سے غير مسلموں کو  کافر کہتے ہيں