• صارفین کی تعداد :
  • 2496
  • 8/29/2013
  • تاريخ :

انبياء اور معصومين ميں صرف ايک خاتون! کيوں؟

انبیاء اور معصومین میں صرف ایک خاتون! کیوں؟

ايسي بات نہيں ہے کہ صرف ايک خاتون يعني سيدہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ عليہا) معصومہ ہوں بلکہ ہمارے پاس سيدہ زينب کبري (سلام اللہ عليہا) اور حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ عليہا) کي عدم عصمت کي بھي کوئي دليل نہيں ہے-

يہ جو ايک لاکھ چوبيس ہزار پيغمبر مرد ہيں اس لئے ہے کہ نبوت اور رسالت انتظامي امور پر بھي مشتمل ہے اور مردوں کي جسماني خصوصيات کچھ ايسي ہيں کہ انتظامي امور ان ہي کے فرائض ميں شامل ہيں-

دوسري طرف سے نبوت اور ولايت کي پشت پناہي، ولايت ہے؛ انسان کا کمال اس ميں ہے کہ ولي اللہ بن جائے اور ولي اللہي کا يہ منصب مرد يا عورت سے اختصاص نہيں رکھا- آسيہ بنت مزاحم، مريم بنت عمران، خديجہ بنت خويلد، فاطمہ بنت محمد (ص)، زينب بنت علي (ع)، اور معصومہ بنت موسي بن جعفر (ع) جيسي بزرگ خواتين اسي عالم ميں تھيں اور ان ميں سے ہر ايک نے اپنے خاص رتبے کا تحفظ کرتے ہوئے ولي اللہي کا منصب حاصل کيا-

نبوت اور رسالت انتظامي عہدہ ہے اور يہ جو ابتداء سے انتہا تک کوئي خاتون نبي نہيں بن سکي ہے، اس کي وجہ سے يہ ہے کہ اس صورت ميں عورت کو تمام انسانوں سے رابطہ کرنا پڑے گا اور جنگ و امن ميں افواج اور جنگوں کي قيادت کرني پڑے گي؛ حالانکہ يہ مناصب اس کے لئے بہت بھاري اور دشوار ہيں-

اگر تمام انبياء مرد تھے تو اس کا مفہوم يہ نہيں ہے کہ معنوي کمال مردوں کے لئے مخصوص ہے بلکہ کمال معنوي کا تعلق ولايت سے ہے اور اللہ کي ولايت ميں مرد اور عورت کے درميان کوئي فرق نہيں ہے- مرد اور عورت دونوں ولي اللہ بن سکتے ہيں-

 

 منبع: توصيه ها،پرسش ها وپاسخ ها ؛در محضر آيت الله جوادي آملي؛نهادنمايندگي مقام معظم رهبري در دانشگاه ها

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

ايران ميں عورتوں کي ترقي

مغرب ميں حجاب ، يۃ اللہ خامنہ اي کے نقطہ نگاہ سے