• صارفین کی تعداد :
  • 6080
  • 8/19/2013
  • تاريخ :

بنیادی وراثتی عناصر اور جنسیت

بنیادی وراثتی اثرات اور جنسیت

کروموسومز دراصل  ڈي اين  اے  سے بنا ہوتا  ہے - اس کا پورا نام  Deoxyribonucleic acid  یعنی DNA ہوتا ہے - اس کي ساخت ميں چار پروٹين بنيادي کردار ادا کرتي ہيں - ان کے نام ايڈانين, تهامين, سائٹوسين اور گوانين ہيں - ان کو A, T,C اور G کے مخفف سے ظاہر کيا جاتا ہے - ڈي- اين- اے  2 دهاگوں سے بنا ہوا ہے جو ايک دووسرے سے جڑے ہيں جيسه کہ ايک گھومتي ہوئي سيڑھي - اس  کو ہم  ڈبل ہيلکس کے نام سے پکار تے ہيں - ہمارے جسم  کے ہر سيل ميں 46 کروموسومز ہوتے  ہيں جو  23 جوڑوں  پر مشتمل ہيں - دو جنسي کروموسومز  x اور y   ہوتے ہيں - مرد کے پاس جنسي کروموسوم کي جو جوڑي ہوتي ہے وہ xy    پر مشتمل ہوتي ہے   جبکہ ماں کے پاس دونوں xx  ہي ہوتے ہيں - اس ليۓ ماں کي طرف سے ہميشہ x   ہي آتا ہے جبکہ باپ کي طرف سے ممکن ہے کہ x  آۓ اور يہ بھي ممکن ہے کہ y  آۓ - جب بچے کي پيدائش کے ليۓ زائیگوٹ بنتا ہے تو اس ميں ايک کروموسوم ماں کي طرف سے آتا ہے اور ايک باپ کي طرف سے - يہي وجہ ہے کہ بچے ميں ماں اور باپ دونوں کي کچھ  خصوصيات پائي جاتي ہيں -  باپ کي طرف سے آنے والا کروموسوم  يہ چيز مشخص کرتا  ہےکہ  پيدا ہونے والا بچہ نر ہے يا مادہ - اگر باپ کي طرف سے x آۓ تو وہ ماں کي طرف سے آنے والے x  سے مل کر xx  بناتا ہے يعني  يہ بچہ مادہ ہو گا  اور اگر باپ کي طرف سے y  آۓ تب  وہ ماں کي طرف سے آنے والے x  سے مل کر xy  بناتا ہے يعني  يہ بچہ نر ہو گا - اس  ليۓ معاشرے ميں لڑکے اور لڑکي کي  پيدائش ميں ماں کا کوئي عمل دخل  نہيں ہوتا ہے - يہ مرد پر منحصر ہے کہ اس سے کونسے کروموسومز  آتے ہيں -

انسان   کے اندر پائي جانے والي خصوصيات دراصل  وراثتي اثرات کي وجہ سے ہوتي ہيں مگر  ماحول ، غذا اور ورزش جيسے عوامل بھي اس پر اثر انداز ہوتے ہيں - ( جاری ہے )

 

تحریر : عروج فاطمہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

 

متعلقہ تحریریں:

ہماري زندگي ميں وراثتي اثرات

علم طب ميں  مسلمان طبيبوں کا حصّہ