• صارفین کی تعداد :
  • 7305
  • 9/29/2013
  • تاريخ :

مخلص اور بہتر دوست

مخلص اور بہتر دوست

مخلص دوست(حصّہ اوّل)

بس، بس رہنے دو ميري بھلائي،ميں خود سمجھتا ہوں ا پني بھلائي اپني برائي کو،تم اپنے کام سے کام رکھو بس، نديم نے اسي طرح تنکتے ہوئے کہا-

نشيد نے کيا- ٹھيک ہے، ابھي تو ميں جارہا ہوں مگر ميري يہ بات ياد رکھنا، آئندہ کسي معصوم پرندے کو اپنے ظلم کا نشانہ بنايا تو ٹھيک نہيں ہوگا، يہ کہہ کر نشيد نے جانے کے ليے جيسے ہي اپنا قدم آگے بڑھايا نديم نے ايک اور کبوتر کو نشانہ بنا کر اس کي جان لے لي، نشيد يہ ديکھ کر اس پر جھپٹا اور اس کے ہاتھ سے غليل چھين لي، نديم اپني غليل اس سے واپس لينے کے ليے بھپرے ہوئے انداز ميں جھپٹا مگر نشيد جھکائي دے کر تيزي سے ايک طرف ہٹ گيا، نہ جانے کيسے نديم کا پير پھسلا، وہ ڈگمگايا، سنبھلنے کي کوشش کي مگر اوندھے منہ زمين پر گرپڑا، جس جگہ وہ گرا تھا وہيں ايک بڑا نوکيلا پتھر پڑا ہوا تھا جو اس کي پيشاني ميں بري طرح چھب گيا اور پيشاني سے خود کي دھار بہہ نکلي، نشيد نے يہ ديکھا تو واپس پلٹا، اس نے نديم کو اٹھايا اور اپنا رومال اس کے زخم پر رکھ کر خون روکنے کي کوشش کرنے لگا، مگر جب ناکام رہا تو اسے ساتھ لے کر قريبي کلينک لے گيا، ڈاکٹر نے ديکھا زخم گہرا تھا، پوچھا يہ کيسے لگا تو نشيد نے ساري بات بتا دي-

ڈاکٹر نے کہا- بيٹے شکر کريں، يہ قدرتي سزا ہے، اللہ کي طرف سے آپ کے ظلم کي، آپ کو ايک اچھا دوست ملا ہے جو آپ کو غلط کام سے روکنا چاہتا ہے، آپ نے قرآن مجيد پڑھا ہے، نديم نے اقرار ميں سر ہلا ديا-

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس کي سورة الزلزال ياد ہے آپ کو، نديم نے پھر اقرار ميں سر ہلا ديا، شاباش يہ تو بہت اچھي بات ہے ذرا سنائيے تو سہي، ڈاکٹر صاحب نے نديم سے بڑے ہي دوستانہ انداز ميں کہا، نديم نے بسم اللہ الرحمن الرحيم پڑھ کر سورة الزلزال سنا دي- ماشاءاللہ، آپ کو اچھي طرح ياد ہے، اور پڑھتے بھي بہت پيارے انداز ميں ہيں اب ذرا يہ بتائيں آپ کو اس کا ترجمہ بھي آتا ہے، اس پر نديم نے انکار ميں سر ہلاديا- ارے بھائي، يہ کيا بات ہوئي، آپ نے قرآن مجيد پڑھا، سورت بھي ياد کي مگر اس کا ترجمہ نہيں معلوم آپ کو، پھر ايک گہري سانس ليتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا- ترجمہ جاننے سے پہلے آپ يہ جان ليں کہ قرآن مجيد کي يہ سورة مدني ہے اور اس ميں سات آيات ہيں، پہلي آيت ميں اللہ تعاليٰ کہتے ہيں: جب زمين اپني پوري شدت سے ہلا ڈالي جائے گي اور دوسري آيت ميں کہا ہے اور انسان کہے گا يہ کيا ہو رہا ہے پھر اگلي آيت ميں اللہ تعاليٰ نے بتايا ہے کہ اس روز وہ اپنے اوپر گزرتے ہوئے حالات بيان کرے گي کيوں کہ تيرے رب نے اسے ايسا کرنے کا حکم ديا ہوگا، اس روز لوگ متفرق حالت ميں پلٹيں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائيں پھر آخري دو آيات ميں سے ايک آيت ميں کہا ہے کہ پھر جس نے ذرہ برابر نيکي کي ہوگي وہ اس کو ديکھ لے گا اور دوسري آخري آيت ميں کہا ہے کہ جس نے ذرا برابر بھي بدي کي ہوگي وہ اس کو ديکھ لے گا- پھر ايک گہري سانس ليتے ہوئے آگے کہا بيٹے ميں نے پہلے کہا تھا يہ قدرتي سزا ہے جو آپ کو اسي وقت مل گئي يہ آپ کے ظالم کي جو بے زبان، معصوم پرندوں کي جان لے کر کرتے ہيں کي ملي ہے، پھر آپ کا دوست اپني دوستي، اپني اسلامي تعليم اور اسلامي اخوت، محبت کا خيال کرتے ہوئے آپ کو ميرے کلينک تک لے آيا، يہ بھي اللہ کي طرف آپ کے دوست کے دل ميں ڈالي گئي بات ہے- ذرا سوچيے وہ آپ کو زخمي حالت ميں وہيں پڑا چھوڑ کر اپنے گھر چلا جاتا تو بروقت طبي امداد نہ ملنے پر آپ کے زخم کي نوعيت کيا ہوتي کي زيادہ خون بہہ جانے کي وجہ سے آپ کمزوري محسوس نہ کرتے اور نديم ڈاکٹر صاحب کي کسي بھي بات کا کوئي جواب نہيں دے سکا-

اس کي گردن ندامت سے جھکي ہوئي تھي، وہ اپنے عمل پر شرمسار تھا اور دل ہي دل ميں اللہ تعاليٰ کي رحمت اس کے کرم کا شکر ادا کررہا تھا جس نے نشيد کي صورت ميں ايک اچھا مخلص دوست اور ڈاکٹر صاحب کي صورت ميں ايک اچھا رہنما، جب وہ نشيد کے ساتھ کلينک سے باہر نکلا تو دل ہي دل ميں فيصلہ کرچکا تھا کہ آئندہ وہ کسي بھي پرندے کو کسي بھي کمزور کو ناحق اپنے ظلم کا نشانہ نہيں بنائے گا-

ايک دن نديم نے صبح سويرے مٹھي بھر باجرے کے دانے اپنے آنگن ميں ڈال ديے، دانے ديکھ کر کئي کبوتر اور دوسرے پرندے دانہ چگنے صحن ميں آ گئے، نديم کو دانہ چگتے ہوئے پرندے بہت اچھے لگ رہے تھے آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ ظلم وہ ہے جس سے دل و دماغ ميں چھبن ہي محسوس ہو اور نيکي وہ جس سے دل و دماغ ميں خوشي، سکون اور اطمينان کا احساس پيدا ہو- اب نديم وہ پہلے والا نديم نہيں رہا تھا-

اس کا ہر فعل، ہر عمل اللہ تعاليٰ کي رضا اور پيارے رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي تعليمات کے مطابق ہوگيا تھا، اس کي سوچ کا عمل بالکل بدل چکا تھا، نشيد اب اس کا سب سے مخلص دوست تھا-(ختم ہوا)

 

متعلقہ تحریریں:

دوسرے شير سوختہ شير کا انتقام لينا چاہتے تھے