• صارفین کی تعداد :
  • 9678
  • 9/1/2013
  • تاريخ :

ڈولفن مچھلي کي حيرت انگيز يادداشت

ڈولفن مچھلی کی حیرت انگیز یادداشت

برطانيہ کے نشرياتي ادارے ميں چھپنے والي ايک سائنسي خبر کے مطابق ڈولفنز نہ صرف خاندان بلکہ اجنبيوں کو بھي ياد رکھتي ہيں - سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے بعد ڈولفن وہ جاندار ہے جس کي يادداشت سب سے طويل ہوتي ہے- اس سے پہلے خيال کيا جاتا تھا کہ لمبي يادداشت رکھنے والا جانور ہاتھي ہے-’ڈولفن ايک دوسرے کو نام سے پکارتي ہيں اور ايک موقع پر  ڈالفن نے مل کر بيمار ساتھي کي مدد کي -  ايک سائنسدان نے تو حتي يہاں تک کہا کہ انسانوں کي طرف ڈالفن کو شخصيت مانا جائے:

امريکہ ميں محققين کا کہنا ہے کہ بيس سال تک ايک دوسري سے الگ رہنے کے باوجود ڈولفنز اپنے پرانے ساتھيوں کي مخصوص سيٹي دہراتي ہيں-

محققين کا کہنا ہے کہ يہ طويل المدت يادداشت ڈولفن کے پيچيدہ سماجي روابط کي پيداوار ہے-

يہ تحقيق ’پروسيڈنگ آف دي رائل سوسائٹي بي‘ ميں شائع کي گئي ہے- اس تحقيق ميں سائنسدانوں نے بوتل جيسي ناک والي چھپّن ڈولفنز کے باہمي تعلقات سے حاصل ہونے والي معلومات کا جائزہ ليا- ان ڈولفنز کو افزائش نسل کے ليے امريکہ اور برمودا کے چھ مختلف چڑيا گھروں اور ايکويريمز ميں منتقل کيا گيا تھا- کئي دہائيوں قبل کے ريکارڈز ميں يہ درج تھا کہ کون کون سي ڈولفنز ساتھ ميں رہي ہيں-

محققين نے پاني کے اندر لگے سپيکرز پر ان ڈولفنز کي سيٹيوں کي آوازيں نشر کيں گئيں جن کے ساتھ وہاں موجود ڈولفنز ماضي ميں رہ چکي تھيں، جس کے بعد ان کے ردِعمل کو جانچا گيا-

اس مطالعے ميں شامل شکاگو يونيورسٹي کے ڈاکٹر جيسن برک کا کہنا ہے کہ ’جب يہ ڈولفن کسي مانوس آواز کو سنتي ہيں تو يہ نسبتاً زيادہ دير تک سپيکرز کے پاس رکتي ہيں‘-

انہوں نے مزيد کہا ’ وہ سپيکرز کے ساتھ اپنا رابطہ بحال رکھتي ہيں اور اگر ميں کوئي ايسي آواز نشر کروں جس سے وہ غير مانوس ہيں تو اسے نظر انداز کر ديتي ہيں- جانوروں کے رويّوں پر ہونے والے مطالعے ميں اتني مدت تک يادداشت کا پايا جانا ايک غير معمولي چيز ہے‘-

ڈاکٹر برک نے دو ڈلفنز ’ايلي‘ اور ’بيلي‘ کا حوالہ ديا جو فلوريڈا ميں اس وقت ساتھ تھيں جب وہ نوعمر تھيں-‘

بيلي اب برمودا ميں رہتي ہے، جب اس کے ليے ايلي کي آواز بجائي گئي تو اس نے فوراً ردعمل ديا حالانکہ وہ يہ آواز بيس سال اور چھ مہينے کے بعد سن رہي تھي-

ڈولفن کے ردِعمل ميں پہچان کے عنصر کو جانچنے کے ليے ڈاکٹر برک نے اسے بوتل جيسے ناک والي اور لگ بھگ اسي عمر اور جنس کي دوسري ڈولفن کي آواز بھي سنوائي-

محققين کے مطابق ايک ڈولفن ميں ماضي کي چيزوں کو دہرانے کي صلاحيت اس بات کا اشارہ کرتي ہے کہ سمندري ميمل کي ذہني پيچيدگي بھي اسي نوعيت کي ہے جيسي انسان، چيمپينزي اور ہاتھي ميں ہوتي ہے-

اس سے پہلے کے اندازوں کے مطابق ہاتھيوں کي يادداشت بيس سال تک رہتي ہے- ليکن خاندان سے باہر کے ہاتھيوں کے بارے ميں ان کي يادداشت سے متعلق بہت کم شواہد ملے ہيں-

 

متعلقہ تحریریں:

مستقبل ميں خلائي مخلوق سے ہمارے رابطے

آنسو کا بہنا اور ميڈيکل سائنس کا باہمي تعلق ( حصّہ سوّم )