• صارفین کی تعداد :
  • 5335
  • 9/7/2013
  • تاريخ :

قحط ميں قيمتي چيز

قحط میں قیمتی چیز

سب سے قيمتي (حصّہ اوّل)

سب لوگ حيران رہ گئے- ملاح کي بات دل ميں اتر گئي- سب نے يک زبان ہو کر کہا ”‌گيہوں سب سے زيادہ قيمتي چيز ہے- پورا جہاز اس سے بھر ليا جائے کہ جب قحط بھي پڑے تو اس کا مقابلہ ہو سکے-“

لہٰذا جہاز کا رخ سرزمين مصر کي طرف پھير ديا گياجہاں کا گيہوں سب سے زيادہ اچھا اور صحت بخش ہوتا ہے- وہاں پہنچ کر کپتان نے گيہوں کے مالکان سے ملاقات کي اور بڑے بڑے ذخيرے خريد کر جہاز کے اوپر تک لاد ليا-

اب ادھر کي سنئے جہاز روانہ ہو جانے کے بعد خدا کي کرني ايسي ہوئي کہ اس پورے خطے ميں سمندري طوفان کي صورت ميں بڑي آفت آ پہنچي جسکي وجہ سے تمام کھيت ،فصليںاوربڑي تعداد ميں لوگوں کے مکانات وغيرہ زير آب آ گئے اور فصلوں کو شديد نقصان پہنچا- حالت يہاں تک آپہنچي کہ وہ خطہ جہاں رزق کي کمي نہيں تھي، وہاں لوگوں کو فاقے کرنے پڑ رہے تھے- خود مغرور عورت کے گودام بھي غلے اور ديگر کھانے پينے کي اشياءسے خالي ہو گئے تھے- پڑوسي ملکوں سے امداد کي درخواست بھي رد ہو چکي تھي- ايسے ميں وہاں کے لوگوں سميت اس مغرور عورت کے بھي ہوش ٹھکانے آ گئے تھے- عورت کي صحت دن بدن گرتي جا رہي تھي- پورے ملک ميں سخت مايوسي کي کيفيت پھيلي ہوئي تھي- يہاں تک کہ ايک روز بہت دور سمندر کے سينے پر جہاز کے مستول نظر آئے- بچے ، بوڑھے، عورت، مرد سب طرح طرح کے خيالي پلاۆ پکا رہے تھے کہ ناجانے جہاز پر وہ کونسي قيمتي چيز آئے گي- زندگي ميں پہلي بار دنيا کي سب سے زيادہ قيمتي چيز ديکھنے کے ليے سب ہي لوگ بے تاب تھے-

اور جب جہاز لنگر انداز ہوا اور کپتان اتر کر اپني مالکہ کے پاس پہنچا جو جہاز کي خبر سن کر بيماري کے باوجود ساحل تک چلي آئي تھي تو اس نے کہا ”‌محترمہ ميں ايک بہت ہي قيمتي چيز لايا ہوں جو حقيقتاً زندگي کا سہارا ہے- يہ سن کر عورت کے چہرے پر حيراني پھيل گئي- ”‌ وہ کيا؟“ عورت نے پيشاني پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا-

”‌ آپ اس سے واقف ہوں گي اسے کہتے ہيں گيہوں- کپتان نے جواب ديا-

”‌گيہوں؟“ مغرور عورت نے حيران ہو کر آخري لفظ دہرايا- ”‌ کيا کہا، گيہوں؟“

ارد گرد کھڑے لوگوں نے جب يہ خبر سني تو وہ خوشي سے چلا اٹھے، اور ”‌گيہوں“ کے نعرے لگانے لگے- عورت نے اردگرد کے لوگوں کے يہ تاثرات ديکھے تو اس کے چہرے پر موجود حيراني کي جگہ مسکراہٹ پھيل گئي اور وہ بھي خوشي سے چلا اٹھي-”‌ گيہوں.... واہ کمال کر ديا-“

اس کڑے وقت ميں وافر مقدار ميں گيہوں کي صورت ميں کوئي دوسري چيز قيمتي ہو ہي نہيں سکتي تھي- عورت نے گيہوں کا ايک حصہ اپنے گودام ميں رکھوا ديا جبکہ بقيہ چھ حصے عوام ميں تقسيم کرواديئے- يوں اس کمزور سے ملاح کي دور انديشي سے نہ صرف عورت خوش ہوئي بلکہ اس کے مزاج ميں تبديلي کے باعث خطے کے لوگ بھي اس خزانے سے مستفيد ہوگئے-(ختم)

 

متعلقہ تحریریں:

ضحّاک کي کہاني کا انيسواں اور بيسواں حصّہ

شير اور آدمي زاد