• صارفین کی تعداد :
  • 3350
  • 8/7/2013
  • تاريخ :

حجاب، رہبر معظم کي نگاہ ميں

حجاب، رہبر معظم کی نگاہ میں

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حضّہ اوّل)

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے (حصّہ دوّم)

خود نمائي ممنوع:

اسلام ميں تبرج ممنوع ہے- تبرج يعني فتنہ انگيزي کي غرض سے مردوں کے سامنے عورتوں کي خود نمائي- يہ ايک طرح کا فتنہ ہے اور اس سے بڑے مسائل پيدا ہوتے ہيں- اس سے يہي ايک مسئلہ پيدا نہيں ہوتا کہ ايک نوجوان لڑکي يا نوجوان لڑکے سے گناہ سرزد ہو رہا ہے، يہ تو بالکل ابتدائي چيز ہے اور شايد يہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سب سے معمولي چيز ہے، اس کا سلسلہ خاندانوں تک پہنچتا ہے- بے روک ٹوک اور بے لگام روابط خاندانوں کے لئے سم مہلک کا درجہ رکھتے ہيں- کيونکہ خاندانوں کا دار و مدار عشق و محبت پر ہوتا ہے- خاندان کي عمارت عشق و الفت پر ٹکي ہوتي ہے- اگر يہ (جذبہ) عشق، خوبصورتي کا عشق اور صنف مخالف کا عشق، کسي اور جگہ تسکين پانے لگے تو کنبے کي محکم بنياد ختم ہو جائے گي اور خاندان متزلزل ہو جائيں گے اور ان کي وہي درگت ہوگي جو آج بد قسمتي سے مغربي دنيا بالخصوص شمالي يورپ کے ممالک اور امريکا ميں ہوئي ہے- خاندان بکھر کر رہ جائيں گے، يہ بہت بڑي بلا ہے- اس بلا کا نقصان سب سے پہلے خواتين کو ہي پہنچتا ہے- يوں تو مردوں کو بھي بے شمار مشکلات اور سختيوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ليکن عورتوں کو زيادہ خسارہ ہوتا ہے اور پھر اس نسل کو جو دنيا ميں آ رہي ہے- دنيا اور امريکا کي اس گمراہ نسل کو آپ ديکھ رہے ہيں؟ اس کا سرچشمہ وہي ہے- يعني يہ چيز اس شر کا مقدمہ اور کنجي ہے جس سے پے در پے شر وجود ميں آتا ہے!

 

حجاب اور عورت کي سماجي ترقي:

اسلام چاہتا ہے کہ عورتوں کا فکري، علمي، سماجي، سياسي اور سب سے بڑھ کر روحاني ارتقاء اپني بلند ترين منزل تک پہنچے اور ان کا وجود معاشرے اور انساني کنبے کے لئے زيادہ سے زيادہ اور بہتر سے بہتر ثمرات اور فوائد کا سرچشمہ قرار پائے- اسلام کي تمام تعليمات منجملہ حجاب کي بنياد اسي چيز پر رکھي گئي ہے- حجاب، عورت کو معاشرے سے الگ کر دينے کے معني ميں نہيں ہے- اگر پردے کے سلسلے ميں کسي کا تصور يہ ہے تو بالکل غلط ہے تصور ہے- حجاب، معاشرے ميں مرد اور عورت کي بے ضابطہ آميزش کو روکنے کا ذريعہ ہے- يہ آميزش معاشرے اور مرد و زن دونوں کے بالخصوص عورت کے نقصان ميں ہے (جاری ہے)

 

بشکریہ خامنہ ای ڈاٹ آی آڑ


متعلقہ تحریریں:

مغرب کا خواتين کے مالکانہ حقوق سے انکار

خواتين کي آزادي کي وجہ