• صارفین کی تعداد :
  • 2767
  • 8/3/2013
  • تاريخ :

حجاب، قائد انقلاب اسلامي کے نقطہ نگاہ سے

حجاب، قائد انقلاب اسلامی کے نقطہ نگاہ سے

پہلا باب: اسلامي ثقافت ميں حجاب کا مقام

 

فطري انساني نظام:

حجاب انسان کي فطرت سے ہم آہنگ اقدار کا جز ہے- دونوں صنف مخالف کا حد سے زيادہ آميزش کي سمت بڑھنا، بے پردگي اور ايک دوسرے کے سامنے عريانيت فطرت انساني اور مزاج انساني کے خلاف عمل ہے- اللہ تعالي نے مرد و زن کي زندگي کو ايک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کي غرض سے اور فوائد کي بنياد پر ايک فطري نظام قائم کيا ہے تاکہ وہ دونوں مل کر دنيا کا نظم و نسق چلائيں- کچھ فرائض عورتوں اور کچھ مردوں کے دوش پر رکھ دئے ہيں اور ساتھ ہي مرد و زن کے لئے کچ حقوق کا تعين کر ديا ہے- مثال کے طور پر عورت کے حجاب کے سلسلے ميں مرد کے لباس سے زيادہ سخت گيري کي گئي ہے- يوں تو مرد کو بھي بعض اعضا کو چھپانے کا حکم ديا گيا ہے ليکن عورت کا حجاب زيادہ ہے- کيوں؟ اس لئے کہ عورت کے مزاج، خصوصيات اور نزاکت کو قدرت کي خوبصورتي و ظرافت کا مظہر قرار ديا گيا ہے اور اگر ہم چاہتے ہيں کہ معاشرہ کشيدگي، آلودگي اور انحراف سے محفوظ رہے اور اس ميں گمراہي نہ پھيلے تو اس صنف (نازک) کو حجاب ميں رکھنا ضروري ہے- اس لحاظ سے مرد پوري طرح عورت کي مانند نہيں ہے اور اسے تھوڑي زيادہ آزادي حاصل ہے- اس کي وجہ دونوں کي فطري ساخت اور اللہ تعالي کي نظر ميں نظام حيات چلانے کے تقاضے ہيں-

 

اسلام ميں جماليات کي اہميت:

اسلام ميں جماليات کو بڑي اہميت دي گئي ہے- خوبصورتي، جمال پسندي اور خوبصورتي پيدا کرنا ايک فطري چيز ہے- البتہ يہ چيز جديديت سے کچھ مختلف ہے- جديديت اس سے زيادہ عام چيز ہے جبکہ آرائش اور پوشاک کا مسئلہ ايک خاص چيز ہے اور انسان بالخصوص نوجوان کو خوبصورتي پسند ہوتي ہے، اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ خود بھي خوبصورت لگے- ہم اکثر و بيشتر سنتے ہيں : " ان اللہ جميل و يحبّ الجمال" اللہ تعالي جميل ہے اور خوبصورتي کو پسند کرتا ہے- احاديث کي کتابوں ميں وضع قطح درست رکھنے کے تعلق سے بہت سي روايات منقول ہيں- نکاح سے متعلق احاديث ميں تفصيلي بيان ہے کہ عورت اور مرد اپني وضع قطح پر توجہ ديں- بعض لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ مردوں کو ہميشہ سر منڈوائے رہنا چاہئے- جي نہيں، شريعت نے نوجوانوں کے لئے بال رکھنے کو مستحب قرار ديا ہے- روايت ميں ہے: " الشعر الحسن من کرامۃ اللہ فاکرموہ" خوبصورت بال الہي وقار کي چيز ہے لہذا اس کي عزت کيجئے- اسي طرح روايت ميں ہے کہ پيغمبر اکرم جب اپنے احباب سے ملنے جاتے تو پاني کے برتن ميں اپنا چہرا ديکھتے اور اپنے بالوں کو سنوارتے تھے- اس زمانے ميں آج کي طرح ہر گھر ميں آئينہ نہيں ہوتا تھا- مدينہ کا معاشرہ يوں بھي غريبوں کا معاشرہ تھا- پيغمبر اکرم کے گھر ميں ايک برتن ميں پاني رکھا رہتا تھا اور جب بھي آپ اپنے احباب و اصحاب سے ملنے جاتے تو اس برتن کو آئينے کے طور پر استعمال فرماتے تھے- اس سے پتہ چلتا ہے کہ وضع قطح درست رکھنا اور اچھا لباس زيب تن کرنا شريعت اسلامي ميں مستحسن چيزيں ہيں- برائي تب پيدا ہوتي ہے جب يہ چيزيں فتنہ و فساد کا باعث بننے لگيں-(جاری ہے)

 

 

بشکريہ خامنہ اي ڈاٹ آي آڑ


متعلقہ تحريريں:

عورت کي حقيقي شناخت

اسلام نے عورت کو نجات دلائي