• صارفین کی تعداد :
  • 3664
  • 8/1/2013
  • تاريخ :

روزہ اور رياضت کا فرق

روزہ اور ریاضت کا فرق

روزہ اور تپسيا ميں فرق (حصّہ اوّل) 

دوئم- ديني اور غير ديني رياضت ميں ايک فرق يہ ہے کہ دين انسان کو اجازت نہيں ديتا کہ وہ اپنے آپ کو ضرر و زياں سے دوچار کرے يا دوسروں کو نقصان پہنچائے اور اس کے اعمال کو بہرصورت منطقي اور معقول ثمرات پر منتج ہونا چاہئے- مثال کے طور پر روزہ ايک واجب عمل ہے اور بالغ  مسلمانوں پر اس کي تعميل واجب ہے- ليکن اگر يہي روزہ کبھي جسماني تکليف اور بيماري يا بيماري ميں شدت آنے کا سبب بنے تو اس کے وجوب کا حکم منسوخ ہوجاتا ہے اور ايسے شخص کو روزہ نہيں رکھنا چاہئے-

حالانکہ مرتاض، ممکن ہے کوئي عمل اس لئے انجام دے کہ اس کے ارادے کي تقويت کا سبب بنے اور اس کے لئے اس بات کي کوئي اہميت نہيں ہے کہ اس کا عمل انسان کے لئے ضرر و نقصان رکھتا ہے يا نہيں- بالفاظ ديگر اسلام کے عمومي قانون "لاضرر و لا ضرار في الإسلام" کے تحت ضرر اپنے آپ کو اور دوسروں کو پہنچانا اسلام اور اس کے احکام کے دائرے سے خارج ہے- نيز اللہ تعالي کا بھيجا ہوا قاعدہ بھي ايسا ہي جہاں ارشاد فرماتا ہے:

{لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها} (2)،

"اللہ کسي پرذمہ داري عائد نہيں کرتا مگر اس کي وسعت کے اندر"-

تپسيا کرنے والے مرتاض ان قواعد اور اصولوں کو مدنظر نہيں رکھتے بلکہ عين ممکن ہے کہ وہ ان اصولوں اور ضوابط کے برعکس عمل کريں؛ کيونکہ وہ اپنے خيال ميں، اپنے روحاني اور نفسياتي قوتوں کو تقويت پہنچانا چاہتا ہے- اسي بنا پر ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے لئے اسلام کے احکام اوليہ ميں تبديلي لائي جائے يا فريضہ اوليہ اس کے کندھے سے اٹھايا جائے- مثال کے طور پر بيمار شخص کو، جس کس لئے روزہ رکھنا نقصان دہ ہے، يا اس کے علاج ميں تاخير کا سبب بنتا ہے، يا اس شخص کو جو مسافر ہے، روزہ نہيں رکھنا چاہئے-

 

حوالہ جات:

2- سورہ بقرہ (2)، آيت 286-

 

 

ترجمہ : محمد حسین حسینی


متعلقہ تحریریں:

قرآن کي روشني ميں ماہ رمضان  کي فضيلت

ماہ رمضان خدا کے قرب کا بہترين موقع