• صارفین کی تعداد :
  • 4654
  • 8/14/2013
  • تاريخ :

قرآن سے علمي رہنمائي

بسم الله الرحمن الرحيم

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ اوّن) 

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ دوّم)

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ سوّم)

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ چہارم)

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ پنجم)

انسان کے ليے کائنات اور زندگي کي تخليق کے بارے ميں صحيح معلومات کا واحد ذريعہ ''مذہب '' ہے تاہم جب ہم مذہب کا لفظ استعمال کرتے ہيں اس وقت ہمارا اشارہ قرآن مجيد کي طرف ہوتا ہے جو صحيح ترين ماخذِ علم ِکائنات و انسان ہے- ديگر مذاہب کي آسماني کتب اب وہ حيثيت نہيں رکھتيں جو انہيں اپنے زمانہء  نزول ميں حاصل تھيں- کيونکہ ان ميں تحريف کر دي گئي ہے-اور اس بات کي بھي خبر اللہ تعاليٰ نے اپنے ''فرقان حميد ''ميں دے دي ہے جس کي تصديق آج سائنس نے بھي کر دي ہے کيونکہ بائبل جو  توریت اور انجيل کا مجموعہ ہے' ميں بيان کي گئي کئي باتيں سائنس کي رُو سے غلط ثابت ہو چکي ہيں- اس ليے يہ بات بھي قرآن مجيد کي حقانيت پر دلالت کرتي ہے-

انجيل و توريت کے برعکس قرآن مجيد يقيني طور پر کلام اللہ ہے اور ہر قسم کے تضاد سے بالکل منزہ و مبّرا ہے-اللہ نے يہ کتاب خالصتا ً اپنے بندوں کي ہدايت کے ليے اتاري ہے اور رہتي دنيا تک اس کي حفاظت کي ذمہ دار بھي خود اسي کي ذات ہے- چناچہ سورة الحجر ميں ارشاد ہوتا ہے

(اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنِّا لَہ لَحٰفِظُوْن)

''يہ ذکر (يعني قرآن مجيد) ہم نے اتارا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہيں''-

اللہ تعاليٰ کا فرمان ہے کہ قرآن اس کي آخري وحي ہے'اس ليے اس کي حفاظت کا اس نے خود ذمہ ليا ہے لہٰذا سائنس کي تيز رفتار اور انسانيت کے ليے منفعت بخش ترقي اسي وقت ممکن ہے جب وہ قرآن سے رہنمائي حاصل کرے اور خالق ِکائنات کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہے- اگر اس راستے کي الٹي سمت پر چلنے کي کوشش کي گئي تو سائنس دان وقت اور وسائل دونوں کو برباد کرنے کے مرتکب ہو ں گے-

جس طرح دنيا کے دوسرے شعبوں ميں ترقي و بہتري کے ليے ہم ايک صحيح سمت ميں آگے بڑھتے اور منصوبے بناتے ہيں اور ان کے بارے ميں بھي ہميں قرآن سے رہنمائي ملتي ہے ويسے ہي سائنس کے شعبے کے ليے بھي صحيح راہ وہي ہے جسے رب العالمين اور احکم الحاکمين نے صحيح کہا ہے- اور قرآن مجيد ميں اس سمت کا تعين کر ديا گيا ہے جيسا کہ سورة بني اسرائيل ميں فرمايا گيا ہے:

(اِنَّّ ہٰذَا الْقُرْآنَ يَھْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ)

''حقيقت يہ ہے کہ قرآ ن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سيدھي ہے ''-

اميد ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد عوام الناس کو ا س حقيقت کا ادراک ہو جائے گا کہ قرآن مجيد واقعتا اللہ تعاليٰ کا ہي کلام ہے، يہ کسي انسان کي بات نہيں تھي کہ وہ کائنات کے اُن اسرارو رموز کو 1400 سال پہلے ٹھيک ٹھيک ويسے ہي بيان کر دے جيسے جديد سائنس نے اس کے نزول کے بعد دريافت کيے ہيں- قرآن مجيد کا يہ اعجاز باورکراتا ہے کہ يہ ہر زمانے کے ليے مشعل راہ ہے- (ختم ہوا)

 

بشکريہ صراط الہدي ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

قرآن کي حقانيت اور معجزات واضح ہيں

ہلا نظريہ :  قرآن معجزہ نہيں ہے يعني قرآن کي مانند اورمثل لانا ناممکن نہيں ہے !