• صارفین کی تعداد :
  • 679
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

علامہ الفضلي سعودي عرب کے گھٹن زدہ ماحول ميں خاموش جہاد کے علمبردار

آیت اللہ اراکی

علامہ الفضلي سعودي عرب کے گھٹن زدہ ماحول ميں خاموش جہاد کے علمبردار: آيت اللہ اراکي

آيت اللہ اراکي نے قم ميں شيخ فضلي کي رحلت پر منعقدہ مجلس ترحيم ميں خطاب کرتے ہوئے کہا: مرحوم آيت اللہ فضلي ايک عالم، مجاہد، پرتلاش اور کوشاں آدمي تھے انہوں نے اپني ساري زندگي علوم محمد اور آل محمد(ص) کي نشر و اشاعت ميں صرف کر دي- اس عالم رباني نے تعليمات اہلبيت(ع) کي نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ اس دشوار اور گھٹن زدہ ماحول ميں خاموش جہاد کي ذمہ داري کو بھي اپنے دوش پر اٹھا رکھا تھا-

 اہلبيت (ع) نيوز ايجنسي -ابنا- سعودي عرب کے عظيم دانشمند اور دنيائے اسلام کے مفکر آيت اللہ شيخ عبد الہادي الفضلي کي مجلس ترحيم گزشتہ شب - بدھ 10 اپريل- نماز مغربين کے بعد قم مسجد اعظم ميں منعقد ہوئي-

مجمع جہاني تقريب مذاہب اسلامي کے سربراہ آيت اللہ محسن اراکي نے اس پروگرام ميں شريک ملکي اور غير ملکي علماء اور فضلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مرحوم آيت اللہ فضلي ايک عالم، مجاہد، پرتلاش اور کوشاں آدمي تھے انہوں نے اپني ساري زندگيعلوم محمد اور آل محمد(ص) کي نشر و اشاعت ميں صرف کر دي- اس عالم رباني نے تعليمات اہلبيت(ع) کي نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ اس دشوار اور گھٹن کے سے ماحول ميں خاموش جہاد کي ذمہ داري کو بھي اپنے دوش پر اٹھا رکھا تھا-

مجمع جہاني تقريب مذاہب کے سربراہ نےکہا: اس مرد مجاہد نے دشمن کے قلب ميں رہ کر مکتب اہلبيت(ع) کي بے لوث خدمت کي اور معارف اہلبيت(ع) کو اپنے قلم اور  زبان سے پھيلانے کي کوشش کي-

انہوں نے کہا: پيغمبر اکرم (ص) کے بعد دنيائے اسلام ميں ايک مشکل يہ بھي وجود ميں آئي کہ حقائق قرآني کو مخفي کيا

جانے لگا مختلف طريقوں سے کبھي ان ميں لفظي اور معنوي تحريف کر کے، کبھي غلط تفسير بيان کر کے- اور اس سازش کے خلاف حقائق قرآني کي تبيين و تفسير ايک عظيم جہاد تھا جسے ائمہ ہديٰ(ع) نے بھي انجام ديا- امام صادق عليہ السلام نے اس ميدان ميں سب سے زيادہ مجاہدت کي اور علوم آل محمد(ص) کو کتمان اور مخفي کرنےسے بچايا-

آيت اللہ اراکي نے آيت اللہ الفضلي کو سيرت ائمہ (ع) کے سائے ميں جہاد تفسيري بجا لانے والوں کے سپہ سالاروں ميں

کي ايک فرد قرار ديتے ہوئے کہا: اس عظيم مفکر نے اپنے دور کے بزرگ علماء کي شاگردي اختيار کر کے ان سے علوم اہلبيت (ع) کو سادہ زبان ميں تبيين و  تفسير کرنے کے طريقہ کار کو سيکھ کر اسے عملي جامہ پہنايا-

انہوں نے مزيد کہا: ايسے دور ميں جب حوزہ ميں رائج نصاب پر تجديد نظر کرنا قابل تصور نہيں تھا انہوں نے ايک نئ روش کے ساتھ نصاب حوزہ کو تدوين کيا اور حوزہ علميہ عراق ميں انقلاب پيدا کر ديا- انہوں نے اصول، فقہ اور منطق جيسي کتابوں ميں تجديد نظر کي- اور فقہ جعفري کو سازہ اور سليس زبان ميں تدوين کيا-

انہوں نے کہا: علامہ عبد الہادي الفضلي نے اپني عمر کے آخري دہائيوں ميں عراق سے سعودي عرب ہجرت کي اور سعودي عرب کي يونيورسٹيوں ميں استاد بن کر ايک خاموش اور حکيمانہ جہاد کا آغاز کر ديا- اور سعودي عرب کے ايسے ماحول ميں کہ جہاں کھلے عام منبر سے تعليمات اہلبيت (ع) کي نشر و اشاعت کي ہر کوئي جرئت نہيں کر سکتا علامہ فضلي نے اپني حکيمانہ تدابير سے علوم محمد و آل محمد(ص) کي نشر و اشاعت کي-

آيت اللہ اراکي نے آخر ميں کہا: ہمارے دور ميں مذہب تشيع ہر دور سے زيادہ ثقافتي يلغار کا شکار ہے ايسے ميں ہماري سب سے اہم ذمہ داري يہ ہے کہ ہم حکيمانہ انداز ميں معارف اہلبيت (ع) کو دنيا والوں تک پہنچائيں-