• صارفین کی تعداد :
  • 5061
  • 2/18/2013
  • تاريخ :

شادي شدہ افراد  کے مسائل

شادی بیاه

کامياب ازدواجي زندگي کے ليۓ پانچ سنہري اصول

ازدواجي زندگي کے مسائل

شادي سے پہلے سوچ بچار

پانچواں مسئلہ يہ ہوتا ہے کہ  جيون ساتھي شادي کو ايک خيال انگيز  حيثيت ديتے ہيں  ليکن ان کو يہ جان لينا چاہيۓ کہ  دونوں کي مشترک زندگي  ايک بہت بڑي حقيقت ہوتي ہے  جس ميں خيانت اور بےوفائي کے  امکانات موجود ہوتے ہيں -   اس ليۓ ہميشہ حقائق سے آگاہ رہ کر زندگي کو احسن انداز ميں گزارنے کي کوشش کرني چاہيۓ -  

بہتر شادي کے ليۓ شروع سے ہي عقل مندي کا مظاہرہ کرنا چاہيۓ - ايک دوسرے  کے بارے ميں جان پہچان سے لے کر  عاشق ہونے تک کے مراحل کو عقل مندي سے ديکھنا چاہيۓ -

 شادي کے ليۓ مناسب عمر  کا فرق

بڑي عمر کے افراد تين وجوہات کي بنا پر شادي ميں مشکلات کا شکار ہوتے  ہيں -  جسماني فيزيولوجي ،  نفسياتي اثرات اور معاشرتي اثرات -  جن لوگوں کي عمريں چاليس سال  کي حد کو عبور کر جاتي ہيں انہيں  يہ ڈر ہوتا ہے کہ  اس عمر ميں شايد وہ  ازدواجي زندگي کي حقيقي خوشيوں سے لطف اندوز نہ ہو پائيں -  حقيقت يہ ہے کہ عورت جلدي بالغ ہو جاتي ہے اور مرد کي نسبت تقريبا 5 سال  پہلے فکري لحاظ سے بلوغت کي عمر کو پہنچ جاتي ہے -  شادي کے بعد  حاملگي  اور ماہواري کي وجہ سے ان کي صحت جلد خراب ہو جاتي ہے اور جسماني لحاظ سے مرد کي نسبت ان پر جلد بڑھاپے کے آثار  ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہيں -  اس ليے شادي سے پہلے اس بات کا خيال رکھا جانا چاہيۓ کہ مياں اور بيوي  کي عمروں ميں کچھ فرق ہو -

ايک دوسرے کا احترام

کامياب ازدواجي زندگي کے ليۓ ضروري ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے کا احترام کريں اور ايک دوسرے کي زندگي کے ہر موڑ پر عزت افزائي کريں -  دونوں کے درميان ايک طرح کے دوستانہ تعلقات کا ہونا بہت ضروري ہے اور ايسے دوستانہ تعلقات اور ايک دوسرے کا احترام دو مختلف باتيں ہيں -  بعض لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں جو دوسروں کے سامنے تو ايک دوسرے سے باتيں کرتے ہيں مگر تنہائي ميں ايک دوسرے  کو ديکھنا بھي  گوارا نہيں کرتے ہيں -

( جاري ہے )

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان