• صارفین کی تعداد :
  • 3512
  • 1/20/2013
  • تاريخ :

طلاق کے بعد مياں بيوي کا بچے کے ليۓ رابطہ

طلاق کے بعد میاں بیوی کا بچے کے لیۓ رابطہ

طلاق کے بعد مشترک مقصد

شايد يہ اچھا ہو کہ  اپني سابقہ بيوي يا اپنے سابقہ شوہر سے آپ اس نيت سے رابطہ رکھيں کہ  اس رابطے سے آپ کي اولاد کو فائدہ پہنچے گا -  طلاق کے ساتھ  آپ کا رشتہ ازدواج ختم ہو چکا ہوتا ہے  مگر آپ کا خانداني تعلق ابھي ختم نہيں ہوتا ہے - بچے کي بہتر پرورش کے ليۓ ضروري ہے کہ ہميشہ اس کي ضروريات کو ذہن ميں رکھيں اور طلاق کے بعد اس پر پڑنے والے ذہني دباۆ کا ادراک کرتے ہوۓ ايسے اقدامات کريں جن سے ذہني دباۆ کي شدت کو کم  کيا جا سکے -

بچے کي مشترکہ پرورش آپ کے بچے کے ليۓ بہترين  راستہ ہے -

بچے کي مشترکہ پرورش کے دوران آپ اپنے  بچے کو يہ احساس دلانے کي کوشش کريں کہ بچے کي زندگي ان کے باہمي اختلافات سے زيادہ اہم ہے - بچے کو يہ احساس دلائيں کہ اس کي ماں اور باپ کے باہمي تعلقات کشيدہ ہونے کے باوجود دونوں کے دلوں ميں بچے کے ليۓ محبت موجود ہے  اور بچے کي ہر  ايک بات کو وہ  اپنے باہمي اختلافات سے زيادہ اہميت ديتے ہيں -

وہ بچے جن کے والدين جدا ہونے کے بعد بھي ايک دوسرے سے تعاون کرتے ہيں :

** ايسے بچے  اپنے اندر تحفظ کا احساس کرتے ہيں -  جن بچوں کو ماں باپ کي جدائي کے بعد بھي پيار ملتا ہے وہ آ‎ساني سے طلاق  جيسي تلخ حقيقت کو تسليم کر ليتے ہيں  اور  طلاق کے برے اثرات سے بچے رہتے ہيں اور ان کے اندر  خوداعتمادي پيدا ہوتي ہے -

**ايسے بچے اپنے والدين  کي باہمي مدد سے  مستفيد ہوتے ہيں - بچوں کو علم ہوتا ہےکہ ماں اور باپ سے انہيں کيا چيز آساني سے ميسر ہو سکتي ہے اور پھر وہ اسي بات کو مدنظر رکھتے ہوۓ والدين سے اس چيز کو مانگنے  کي جسارت کرتے ہيں -

**   ايسے مسائل کو بہتر انداز ميں حل کرنا سيکھ جاتے ہيں - جو بچے يہ ديکھتے ہيں کہ ان کے والدين جدائي کے باوجود کيسے ايک دوسرے سے تعاون کر رہے ہيں تو وہ بھي زندگي کے  مختلف مراحل ميں  باہمي تعاون کرنا سيکھ جاتے ہيں اور ايسے بچوں ميں  ايک دوسرے کو  مشکل حالات ميں بھي برداشت کرنے کي قوت پيدا ہو جاتي ہے اور يوں وہ زندگي کے بہت سے مراحل پر  آنے والي مشکلات کو بہ آساني حل کرنے ميں کامياب ہو جاتے ہيں -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان