• صارفین کی تعداد :
  • 3361
  • 1/7/2013
  • تاريخ :

امام مجتبي کو زہر دينے کا  جرم

امام حسن (ع)

امام محتبي عليہ السلام کو زہر ديا جانا

امام حسن  مجتبي عليہ السلام  کي عمر کے آخري ايام  پر ايک نظر

عدوة الله! قتلتني قتلک الله و الله لا تصيبن مني خلفا و لقد غرک و سخر منک و الله يخزيک و يخزيه;

اے خدا کي دشمن ! تو نے مجھے مارا ، خدا تجھے نابود کر دے گا - خدا کي قسم ! ميرے بعد تمہارے ليۓ کوئي خوشي نہيں آۓ گي - تمہيں دھوکہ ديا گيا اور بغير کسي منفعت کے انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے ليۓ تمہيں استعمال کيا - خدا کي قسم ! معاويہ نے تمہيں بدبخت کيا اور اپنے ساتھ تمہيں بھي  ذليل و خوار  کيا  -

امام صادق عليہ السلام  نے مزيد فرمايا :

" جب جعدہ نے امام  مجتبي عليہ السلام کو زہر ديا تو وہ دو روز سے زيادہ باقي نہ رہے اور اللہ کو پيارے ہو گۓ اور معاويہ جو گھٹيا  وعدہ کيا تھا اس نے وفا نہ کي -

مجرم کي صفائي

ابن خلدون اور لامنس جيسے بعض مۆرخين نے چاہا ہے کہ  معاويہ کے دامن کو اس  ہولناک جرم سے صاف کريں  اور کہيں  کہ يہ بھي  بناوٹي باتيں ہيں -  ابن خلدون لکھتا ہے کہ  جس کا مفہوم يہ ہے کہ

حسن بن علي عليہ السلام کو اس کي بيوي  جعدہ کے ہاتھوں ديۓ جانے والے زہر کے معاملے ميں سفيان کے باپ معاويہ کے ملوث ہونے کي باتيں شيعوں کي طرف سے بنائي گئي ہيں اور معاويہ کا دامن اس معاملے ميں پاک ہے  -

اور  لامنس اس بارے ميں يوں کہتا ہے کہ

«و کان الغرض من هذا الاتهام و صم الامويين ... و لم يجرا علي هذا القول بهذا الاتهام الشنيع جمهرة سوي المۆلفين من الشيعة.»

حسن بن علي  عليہ السلام  کو زہر دينے ميں معاويہ کو ملوّث کرنے کا مقصد بني اميہ کي رژيم کو بدنام کرنا تھا اور اس تہمت  کو شيعہ مۆلفين کے علاوہ کسي دوسرے نے بيان نہيں  کيا ہے -

ترجمہ: سید اسد اللہ ارسلان