• صارفین کی تعداد :
  • 1986
  • 10/29/2012
  • تاريخ :

اے مسلمانو! قدس مدد کے لئے پکار رہا ہے

مسجد الاقصی

اے مسلمانان عالم! کيا آپ کے پاس سطحي اور غير اہم کاموں سے فرصت ہے؟ کيا دشمن کي بساط پر کھيلنے اور اپنے بھائيوں کو تکفير اور قتل کرنے اور بھائي کا گلا کاٹنے سے کوئي فرصت ہے؟ کيا آپ جانتے ہيں کہ دشمن نے اسي لئے ہميں لڑا رکھا ہے کہ وہ ہمارے قبلہ اول اور قبلہ موجود پر نظر رکھتا ہے؟ وہ جانتا ہے کہ ...

وہ جانتا ہے کہ ہمارے درميان جنگ جاري ہے اور ہمارے پاس اس کي طرف توجہ دينے کي فرصت نہيں ہے؛ اور پھر ہم ميں سے بہت سے ايسے بھي ہيں جو دشمن کو اپنے مسلم بھائيوں سے بہتر قرار ديتے ہيں اور قبلہ اول کے دشمنوں کے ہاتھوں ميں ہاتھ دے کر قبلہ اول و موجود کے تحفظ کے سپنے ديکھتے ہيں يا پھر اپنے اقتدار کي خاطرصہيوني دشمن کي مدد سے جان چھڑانے کے چکر ميں ہيں! --- اور دشمن کو يہ سب معلوم ہے؛ ليکن کيا يہ مسلم امہ جاگے گي بھي؟ کيا مسلم امہ ابھي تک سمجھ سکي ہے کہ وہ سورہي ہے؟ کيا اسے معلوم ہے کہ اس کے سونے کي وجہ سے دشمن مقدسات کي تمام سرحديں پھلانگ کر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے حريم تک پہنچ چکا ہے؟ کيا اسے معلوم ہے کہ دشمن قبلہ اول کو مسلمانوں کے تاريخ و عقائد سے حذف کرنے کے لئے بالکل تيار ہے؟ کيا ہم ہم آج سے تيس سال بعد اپنے بچوں کو بتا سکيں گے کہ "سبحان الذي اسري بعبدہ ليلاً من المسجد الحرام الي المسجد الاقصي الذي بارکنا حولہ ---" ميں "مسجد الاقصي کے معني کيا ہيں اور يہ کہاں ہے؟

آج شہر قدس کو ايسے خطرے کا سامنا ہے جس کي تاريخ ميں مثال نہيں ملتي؛ جب سے بيت المقدس کو برطانيہ نے صہيونيوں سے قبضہ کرواديا ہے بظاہر جو خطرہ آج قبلہ اول کو درپيش تھا وہ کبھي بھي پيش نہيں آيا- شہر قدس کو بھي اتنا ہي خطرہ لاحق ہے جتنا کہ مسجد الاقصي کو- ان خطرات سے معلوم ہوتا ہے کہ قدس شہر کے مقدسات کے خلاف اور اس شہر کے باشندوں کي آزادياں پامال کرنے کے حوالے سے صہيونيوں کي جارحيتوں اور تجاوزات ميں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس شہر کو يہوديانے کي سازشيں عروج پر ہيں اور يہ سازشيں نوآباديوں کے صہيونيوں اور صہيوني رياست کي حمايت سے ہورہي ہيں- صہيوني آنے والے انتخابات کے لئے اپني کوششوں کو تحريف شدہ صہيوني تورات کي تعليمات کے مطابق جاري رکھے ہوئے ہيں جن کے تحت وہ تاريخي اور جغرافيائي حقائق کو توڑ مروڑ اسلامي آثار کو مٹانے، مسجد الاقصي کو منہدم کرنے اور شہر کو يہودي شہر ميں تبديل کرنے کي کوشش کررہے ہيں- صہيوني تورات کے مطابق مسلمانوں اور عيسائيوں کي املاک اور گھر بار اور زمينوں پر قبضہ جائز قرار ديا گيا ہے اور صہيونيوں نے انہيں غصب کررکھا ہے-

صہيوني سازشيں اور تشہيري مہم ميں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، صہيونيوں کو مسجد الاقصي ميں حاضر ہونے کي دعوتيں دي جارہي ہيں تا کہ "سياہ منصوبے Black Plan" پر عملدرآمد کيا جاسکے- منصوبہ مسجدالاقصي يا قبلہ اول کو نشانہ بنانے اور اس کے ويرانے پر صہيوني دعوے کے مطابق "ہيکل سليماني" تعمير کرنے کا ہے- علاوہ ازيں مسجدالاقصي ميں نمازيوں پر حملوں ميں اضافہ ہورہا ہے-

جمعہ (5 نومبر2012) کو صہيوني اسپيشل گارڈز نے باب المغاربہ ميں مسلمان نمازيوں پر حملہ کيا اور نمازيوں کو مارا پيٹا گيا- اور اسرائيلي رياست اپنے بدنام زمانہ "ہيکل 2020" منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہي ہے- جس کے تحت قدس کو اسرائيل کا دارالحکومت قرار دينے اور شہر ميں صہيوني آبادکاروں کے لئے 50 ہزار مکانات تعمير کرنے کا اعلان ہوگا اور اس کام کے لئے صہيونيوں نے مسلمانوں کے گھروں، املاک اور زمينوں کو ضبط کرنے، مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور کوچ کرانے کا سلسلہ جاري رکھا ہوا ہے-

ان منصوبوں کے تحت 2020 ميں قدس شہر ميں مسلم باشندوں کي ايک چھوٹي اقليت ہوگي اور اس تاريخي شہر کے اصل باشندے ايک چھوٹي سي اقليت کے عنوان سے زندگي بسر کرنے پر مجبور ہونگے اور انہيں صرف شہر سے ہجرت کرنے کا اختيار ہوگا- حالانکہ يہ تمام صہيوني اقدامات بين الاقوامي قوانين کے مطابق ناجائز ہيں اور اقوام متحدہ کي قراردادوں اور بين الاقوامي فيصلوں کي خلاف ورزي کے زمرے ميں آتے ہيں اور املاک اور زرعي زمينوں کے تحفظ کے سلسلے ميں جنيوا کے مفاہمت نامہ نمبر 4 نيز ہيگ موافقت نامے نے ان اقدامات کو سرے سے مسترد کررکھا ہے-

بشکریہ ابنا ڈاٹ آئی آڑ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

 يہودي رژيم کي فلسطيني بچوں کے خلاف وحشيانہ جنگ