• صارفین کی تعداد :
  • 3138
  • 9/4/2012
  • تاريخ :

يہ مشتِ خاک جسے ہم وطن کہتے ہيں مصر و شام و عراق و يمن کا نام ديتے ہيں

جمال الدین افغانی

يہ مشتِ خاک جسے ہم وطن کہتے ہيں مصر و شام و عراق و يمن کا نام ديتے ہيں، ان کے درميان يقيناً رشتہ ہے ليکن اس کے معني يہ نہيں کہ وہ يہيں تک بند ہو کر رہ جائيں اور آنکھيں کھول کر دنيا کو نہ ديکھيں، سورج، مشرق سے نکلتا ہے، ليکن وہ شرق و غرب دونوں کو منور اور مسخر کر کے رہتا ہے، اس کي فطرت حدود سے بے نياز ہے، اگرچہ اس کا طلوع و غروب حدود کے اندر ہي ہوتا ہے-

چيست ديں برخاستن از روئے خاک

تاز خود آگاہ گردد جانِ پاک

مي نگنجد آنکہ گفت اللہ ہو

در حدودِ ايں نظام چارسو

گفت تن درشو بخاک رہ گزر

گفت جاں پہنائے عالم رانگر

جاں نگنجد در حيات اے ہوشمند

مرد حر بيگانہ از ہر قيد و بند

گرچہ از مشرق بر آيد آفتاب

با تجلي ہائے شوخ و بے حجاب

فطرتش از مشرق و مغرب بري است

گرچہ او از روئے نسبت خاوري است

(ترجمہ:دين کيا ہے ؟ خاک سے بلند ہونے کا نام ہے تاکہ تيري جان يا روح خود آگاہ ہو جائے- جس نے ’’اللہ ہو‘ ‘ کہا وہ اس نظامِ چار سو (زماں و مکاں ) کے حدود ميں سما نہ نہيں سکتا- تن کہتا ہے کہ راستہ کي خاک ميں مل جا- جان کہتي ہے کہ عالم کي وسعتوں پر نظر رکھ- اے ہوش والے ! جان، حيات ميں و زماں و مکاں کے حدود ميں نہيں سما تي- مردِ آزاد ہر قيد و بند سے آزاد ہوتا ہے-  سورج اپني شوخ اور بے حجاب تجليوں کے ساتھ مشرق سے طلوع ہوتا ہے، (ليکن) اس کي فطرت مشرق اور مغرب سے بري ہے اگرچہ کہ اس کي نسبت مشرق سے ہے- )

افغاني نے مزيد فرمايا کہ اشتراکيت اس يہودي کي دماغي اپج ہے جس نے حق و باطل کو خلط ملط کر ديا ہے جس کا دماغ کافر ليکن دل مومن تھا، يہ مغرب کا الميہ ہے کہ اس نے روحاني قدريں اور غيبي حقائق کو کھو کر انھيں معدہ اور مادہ ميں تلاش کرنا چاہا حالاں کہ روح کي قوت و حيات کا تعلق جسم سے نہيں- ليکن شيوعيت بطن و معدہ اور تن و شکم سے آگے بڑھتي ہي نہيں مارکس (KARLMARX) کا يہ مذہب مساواتِ شکم پر قائم ہے،حالاں کہ انساني اخوت جسماني مساوات پر نہيں بلکہ ہمدردي و مواسات اور محبت و مروت پر تعمير ہوتي ہے :

غربياں گم کردہ اند افلاک را

درشکم جويندجانِ پاک را!!

رنگ وبو از تن نگير وجانِ پاک

جز بہ تن کار ے ندارد اشتراک

دينِ آں پيغمبر حق نا شناس

بر مساواتِ شکم دار د اساس

تا اخوت را مقام اندر دل است

بيخ اور در دل نہ در آب و گل است

(ترجمہ:

اہلِ مغرب نے فلاک کو فراموش کر ديا- جانِ پاک کو وہ شکم ميں تلاش کرتے ہيں-

جان ميں جو رنگ و بو ہے وہ تن پر موقوف نہيں ہے- ليکن اشتراکيت کا مدار صرف تن پر ہے-

 اس حق نا شناس پيغمبر(يعني کارل مارکس) کے دين کي اساس شکم پر ہے-

چوں کہ اخوت کا مقام دل ميں ہے، اس لئے اس کي جڑ دل ميں ہے نہ کہ آب و گل ميں-)

افغاني نے ملوکيت کے بارے ميں فرمايا ملوکيت کا جسم و ظاہر بہت خوشنما ہے ليکن اس کا دل تاريک اور روح نحيف و  نزاد اور اس کا ضمير بالکل مردہ ہے، وہ شہد کي مکھي کي طرح ہر پھول پر بيٹھتي ہے،اور اس کا رس چوس ليتي ہے، اس سے پھولوں کے رنگ ميں فرق نہيں آتا ليکن ان کي زندگي ختم ہو جاتي ہے،اور وہ کاغذي پھول بن کر رہ جاتے ہيں، ملوکيت بھي اسي طرح افراد و اقوام کو اپنا شکار بناتي اور ان کا خون چوس کر ہڈي چمڑا چھوڑ ديتي ہے------ ملوکيت اور اشتراکيت کے لئے حرص و ہوس، خدا بيزاري اور مردم آزادي،قدر مشترک اور (Common Factor) کي حيثيت رکھتي ہيں،زندگي اگر اشتراکيت ميں ’’خروج‘‘ ہے، تو ملوکيت ميں ’’خراج‘‘ اور انسان ان چکي کے دو پاٹوں کے درميان پارۂ زجاج!اشتراکيت علم و فن اور مذہب کي قاتل ہے، تو ملوکيت عوام کي دشمن، ماديت دونوں کا مشترکہ مذہب ہے، دونوں کا ظاہر معصوم ليکن باطن مجرم ہے-

ہر دو را جاں ناسبور و ناشکيب

ہر دو يزداں ناشناس،آدم فريب

زندگي ايں را خروج آں را خراج

درميان ايں دو سنگ،آدم زجاج

ايں بہ علم و دين و فن آرد شکست

آں برد جاں راز تن، ناں رازوست

غرق ديدم ہر دورادرب آب و گل

ہر دو راتن روشن و تاريک دل

زندگاني سوختن با ساختن

در گلے تخم دلے اندراختن!

(ترجمہ:

(ملوکيت اور اشتراکيت) دونوں ميں روح بے چين اور غير مطمئن ہے

دونوں خدا ناشناس اور انسانوں کو فريب دينے والے ہيں

زندگي اشتراکيت کے لئے خروج يعني بغاوت ہے اور ملوکيت کے لئے خراج (يعني استحصال) ہے ان دو پتھروں کے درميان انسان شيشہ ہے-

ايک علم و دين و فن کو شکست ديني ہے اور دوسرے اس کے ہاتھ سے روٹي چھين ليتي ہے-

دونوں آب و گل ميں غرق ہيں- دونوں کا تن تو روشن ہے ليکن جان تاريک ہے-

زندگي تپ کر سنورنے اور خاکِتن ميں بيج بونے کا نام ہے-)

تحرير: مولانا سيد ابوالحسن علي ندوي

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

قائد ملت بہادر يار جنگ