• صارفین کی تعداد :
  • 3559
  • 7/8/2012
  • تاريخ :

مذہب اور علم دونوں ميں جمال الدين افغاني کي مصلحانہ ذہنيت نماياں ہوتي ہے

جمال الدین افغانی

اس نے علوم حکميہ کي جس قدر بھي تعليم حاصل کي تھي- وہ وہي موجودہ مدراس عربيہ کے متون و شرح کي عقيم و کج انديش تعليم تھي- ليکن وہ ذہن مستعد طلباء کي ايک جماعت منتخب کر کے علوم حکميہ کا درس و املا شروع کر ديتا ہے- اور قديم معقولات کي وہ تمام گمراہياں ايک ايک کر کے واضح کرتا ہے- جن کے اعتقاد و جمود نے صديوں سے مشرقي دنيا کا ذہني ارتقاء معطل کر ديا ہے-

مذہب اور علم دونوں ميں اس کي مصلحانہ ذہنيت نماياں ہوتي ہے- اور کسي گوشے ميں بھي اس کے قدم وقت کي مقلدانہ سطح سے مس نہيں ہوتے- سياست ميں وہ سرتاپا انقلاب کي دعوت ہوتا ہے اور جہاں کہيں جاتا ہے چند دنوں کے اندر مستعد اور صالح طبيعتيں چن کر انقلاب و تجدد کي روح پھونک ديتا ہے- اس نے بہ يک وقت مصر، ايران، اور عراق، تينوں مقامات ميں اصلاح و انقلاب کي تخم ريزي کر دي!

وہ اپنے اولين قيامِ مصر سے تقريباً بارہ برس بعد پہلي مرتبہ يورپ کا سفر کرتا ہے اور پيرس ميں وقت کے سب سے بڑے فلسفي اور علم و دين کي نام نہاد نزاع ميں سب سے بڑے حريف دين و مذہب، پروفيسر رينان سے ملتا ہے، وہ پہلي ہي ملاقات ميں اس ’’عجيب الاطوار مشرقي فيلسوف‘‘ سے اس درجہ متا ثر ہوتا ہے کہ اخبار طان ميں سيد موصوف کے ايک مقالے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے-

’’ميں نے اس کي شخصيت ميں ابن سينا اور ابن رشد کي روح ديکھي‘‘

 جيسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے- ياد رہے کہ انسان کي قابليت کيسي ہي کيوں نہ ہو ليکن مخاطب کے تاثر کے لئے وہ بہت کچھ قوتِ بيانيہ اور فصاحتِ تکلم کا محتاج ہوتا ہے- جس وقت سيد جمال الدين رينان سے پيرس ميں اور لارڈ سابسري سے لندن ميں ملا ہے اس وقت اس کي فرانسيسي زبان کي تعليم کي تاريخ صرف اتني تھي کہ اثناء قيامِ مصر ميں ايک شخص سے لاطيني الف بے قلمي لکھوا لي تھي، اور پھر کچھ عرصے کے بعد ايک کتاب خريد لي تھي- جو عربي ميں فرانسيسي کي ابتدائي تعليم کے لئے لکھي گئي تھي- کوئي ثبوت موجود نہيں کہ اس نے کسي انسان سے باقاعدہ فرانسيسي زبان کي تعليم حاصل کي ہو- ليکن يہ واقعہ ہے کہ وہ فرانسيسي زبان ميں بہتر سے بہتر تحرير و تقرير کر سکتا تھا- ترکي، روسي اور انگريزي بھي اسي طرح اس نے سيکھ لي تھي-

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

فلسطيني جہاد اسلامي کے اعلي کمانڈر محمد شحادہ، کيوں شيعہ ہوئے؟