• صارفین کی تعداد :
  • 1843
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

معراج النبي (ص) اور ولايت علي (ع) 3

معراج النبي (ص)

معراج النبي (ص) اور ولايت علي (ع) 1

معراج النبي (ص) اور ولايت علي (ع) 2

معراج ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے کلام الہي کے دوران کوئي حجاب حائل نہ تھا؛ فرمايا: "کلّمني ربّي جلّ جلاله" ميرے پروردگار نے مجھ سے کلام کيا، جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ يہ مکالمہ کسي حجاب کے پار سے انجام پايا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ يہ مکالمہ کسي حجاب کے بغير تھا-

خداوند متعال نے اس مکالمے ميں ارشاد فرمايا کہ "فَقَالَ يا مُحَمَّدُ (ص)"، (اے محمد (ص)! "فَقُلْتُ لَبَّيكَ رَبِّي" ميں نے عرض کيا: لبيک اے ميرے پروردگار- "فَقَالَ إِنَّ عَلِياً حُجَّتِي بَعْدَكَ عَلَى خَلْقِي"، فرمايا: بے شک علي آپ کے بعد خلائق پر ميري حجت ہيں-

يہاں بھي واضح کيا گيا ہے کا ولايت علي عليہ السلام کا مسئلہ اللہ کي جانب سے ہے جيسا کہ غدير سے متعلق آيات الہي ميں بھي اور احاديث ميں واضح ہے کہ يہ حکم پروردگار ہي تھا جس کي بنياد پر رسول صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے ولايت علي عليہ السلام کا اعلان فرمايا-

اميرالمۆمنين عليہ السلام کي ولايت کي بنياد

حضرت رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں: اللہ تعالي نے مجھ سے ارشاد فرمايا: "إِنَّ عَلِياً حُجَّتِي بَعْدَكَ عَلَى خَلْقِي وَ إِمَامُ أَهْلِ طَاعَتِي مَنْ أَطَاعَهُ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَصَاهُ عَصَانِي فَانصِبْهُ عَلَماً لِأُمَّتِكَ يهْتَدُونَ بِهِ بَعْدَكَ"(4) "؛ علي آپ کے بعد مخلوقات پر ميري حجت ہيں- اور ميرے طاعت گزار بندوں کے امام ہيں، جو ان کي اطاعت کرے اس نے ميري اطاعت کي ہے اور جو بھي ان کي نافرماني کرے اس نے ميري نافرماني کي ہے؛ پس علي عليہ السلام کو اپنے بعد اپني امت کے لئے عَلَم و راہنما کے عنوان سے نصب کريں تا کہ لوگ ان کي برکت سے ہدايات پائيں- پس علي عليہ السلام کي تقرري کا حکم شب معراج کو بھي ديا گيا تھا- جبکہ اس سے قبل دعوت ذوالعشيرہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے باقاعدہ علي عليہ السلام کي ولايت و خلافت و وصايت کا اعلان فرمايا تھا- 

-----------

مآخذ

4- بحارالانوار، ج18، ص340