• صارفین کی تعداد :
  • 1806
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

عوالم کے درجاتِ رشد ولايت اميرالمۆمنين کے تابع3

امیرالمۆمنین علی (ع)

عوالم کے درجاتِ رشد ولايت اميرالمۆمنين کے تابع1

عوالم کے درجاتِ رشد ولايت اميرالمۆمنين کے تابع2

سيد محمد مهدي ميرباقري

محمد بن سنان کہتے ہيں: ميں حضرت امام محمد تقي الجواد عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر تھا اور ميں نے ولايت کے بارے ميں شيعيان آل محمد (ص) کے درميان موجود اختلافات کي طرف اشارہ کيا تو امام عليہ السلام نے فرمايا: اے محمد! بے شک خدائے تبارک و تعالي ہميشہ سے واحد اور يکتا تھا (اور اس کے سوا کوئي يگانہ و يکتا نہ تھا)

اس کے بعد اس نے محمد (ص) و علي و فاطمہ عليہما السلام کو خلق فرمايا پس وہ ايک ہزار زمانے ٹہرے رہے- اس کے بعد اللہ نے دوسري مخلوقات پيدا کيں اور ان تين ہستيوں کو ان پر گواہ قرار ديا اور ان کي اطاعت کو مخلوقات پر جاري کيا (اور ان پر واجب و لازم قرار ديا) اور مخلوقات کے امور ان کو سونپ ديئے؛ پس وہ جن چيزوں کو چاہيں حلال قرار ديں اور جو چاہيں حرام قرار ديتے ہيں اور وہ ہرگز کچھ نہيں چاہتے جب تک کہ اللہ نہ چاہے اور اس کے بعد فرمايا: اے محمد! يہ وہي ديانت اور دينداري ہے کہ جو بھي اس سے آگے قدم بڑھائے (اور غلو کا راستہ اپنائے وہ دائرہ اسلام سے) خارج ہے اور جو بھي پيچھے رہے اور اس کي خلاف ورزي کرے (اور دائرہ اسلام ميں داخل نہ ہو) وہ نيست و نابود ہوا ہے (اور اس نے اپنا دين باطل کرديا ہے)، اور جو اس کا دامن مضبوطي سے تھامے وہ حق تک پہنچ چکا ہے؛ اے محمد! اس قسم کي دينداري سے چپکے رہو-

چنانچہ علي ابن ابيطالب اور ائمۂ ہدايت عليہم السلام کي ولايت پر ايمان در حقيقت اللہ کي ولايت پر ايمان ہے؛ لہذا دين کي حقيقت اور اس کا خالص جوہر ہي ولايۃاللہ اور ولايت اہل بيت (ع) پر ايمان کامل اور ان کے دشمنوں کي ولايت سے اعراض تام اور اجتناب کامل کے سوا کچھ بھي نہيں ہے-

--------