• صارفین کی تعداد :
  • 1361
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 11

امام علي عليہ السلام

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 7

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 8

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 9

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 10

ايت اللہ العظمي حسين مظاہري

--- اور چونکہ اسلامي امت کي تشخيص کے مطابق اہل بيت عليہم السلام کي ولايت و خلافت اسلام کے مفاد ميں نہ تھي (!!) چنانچہ مسلمانوں نے ابوبکر کے ہاتھ پر بيعت کي اور ابوبکر لوگوں کي بيعت کے بموجب اسلام کے ولي، حاکم اور خليفہ بن گئے اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي جانشيني کے حقدار ٹہرے!!-

يہ بھي ايک نادرست شبہہ ہے اور ايک بے دليل دعوي ہے [اور اگر کوئي دليل ہوتي تو يہ نظريہ دينے والے وہ دليل پيش کرنے سے کبھي بھي دريع نہ کرتے]؛ کيونکہ اگر اسلام ميں اس طرح کے احتمالات اور تصورات کي گنجائش رکھي جائے تو يہي احتمالات اور امکانات نماز، روزہ، حج، جہاد، امربالمعروف اور نہي عن المنکر اور تولا اور تبرا ميں بھي متصور ہوسکيں گے اور يہ کہا جاسکے گا کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے (معاذاللہ) يہ احکامات بھي اپني طرف سے جاري کئے ہيں اور ان کا وحي سے تعلق نہيں ہے! [اور يہ سوال اٹھايا جاسکتا ہے کہ جب ولايت جيسے اہم مسئلے ميں عوام کو حق ديا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے حکم کو "اپنے مفاد سے متصادم" قرار دينے کا حق ديا جاسکتا ہے تو فروعات کو اپنے مفاد سے متصادم سمجھنے کا حق انہيں کيوں نہيں جاسکتا؟]؛ حالانکہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے جو بھي فرمايا ہے وحي الہي کے مطابق ہے:

"ما يَنْطِقُ عَنِ الهَوى إِنْ هُوَ إِلّا وَحْىٌ يُوحى"-[17]

"اور وہ نفساني خواہشوں سے بات نہيں کرتے * آپ (ص) کي بات نہيں ہوتي، مگر وحي جو بھيجي جاتي ہے"-

اور اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ ولايت کا مسئلہ اور اس کا تعين فروع دين سے کہيں زيادہ اہم اور برتر و بالاتر [اور فروع دين کے نفاذ کا ضامن] ہے- امام صادق سلام اللہ عليہ فرماتے ہيں:

.............

مآخذ:

17-‌ سورہ نجم آيت 3 - 4-