• صارفین کی تعداد :
  • 1524
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 8

حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 4

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 5

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 6

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 7

ايت اللہ العظمي حسين مظاہري

--- اس حقيقت کا انکار يا الفاظ کو الٹ پلٹ کر اس کي توجيہ اور تأويل درحقيقت القاظ کا کھيل اور انسانوں کي عقل سے کھيلنے کے مترادف ہے اور اس کا سرچشمہ اسلاف کي ہٹ دھرمي، ہٹ دھرمي اور اندھادھند تقليد کے سوا کچھ نہيں ہے-

ارشاد الہي ہے:

"اِنَّا وَجَدْنا ابائَنا عَلى اُمَّةٍ وَ اِنَّا عَلى اثارِهِمْ مُقْتَدُونَ"- [12]

"ہم نے اپنے باپ دادا کو ايک طريقے پر ديکھا ہے اور ہم ان ہي کے نقش قدم کي پيروي کرتے رہيں گے"-

عقل کيونکر قبول کرسکتي ہے کہ قرآن مجيد ميں امر ولايت کے بارے ميں خاموشي اختيار کي ہو جبکہ ولايت دوسرے تمام امور سے زيادہ اہم ہے اور ولايت دوسرے امور و معاملات پر ترجيح اور فوقيت رکھتي ہے؟ يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے قرآن شريف کے مُشَرِّح و مُبَيِّن ہوتے ہوئے بھي اس ضروري امر کو بيان نہ فرمايا ہو؟ ارشاد رباني ہے:

"وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ"- [13]

"اور ہم نے آپ پر يہ کتاب اتاري ہر چيز کا واضح بيان اور ہدايت اور رحمت اور بشارت بنا کر سراطاعت خم کرنے والوں کے ليے"-

"وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ"-[14]

"اور آپ کي طرف ہم نے يہ يادداشت (کتاب) اتاري ہے تاکہ آپ بيان کريں لوگوں کے سامنے وہ جو ان کي جانب احکام اتارے گئے ہيں اور شايد وہ غور و فکر سے کام ليں"-

پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے بھي اسلامي معاشرے کي سعادت و خوشبختي سے متعلق امور بيان کرنے ميں کبھي قصور نہيں فرمايا جيسا کہ آپ (ص) نے حجۃالوداع کے دوران ارشاد فرمايا:

"ما مِنْ شَىْ‏ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَ يُباعِدُكُمْ عَنِ النَّارِ اِلّا وَ قَدْ اَمَرْتُكُمْ بِهِ وَ ما مِنْ شَىْ‏ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَ يُباعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اِلّا وَ قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ»-[15]

.............

مآخذ:

12-‌ سورہ زخرف آيت 23-

13-‌ سورہ نحل آيت 89-

14-‌ سورہ نحل آيت 44-

15-‌ بحار الانوار، ج 67، ص 96، باب 47، ح 3-