• صارفین کی تعداد :
  • 1356
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرب زہراء (س) کے خطبوں ميں ولايت اميرالمۆمنين (ع) 1

بسم الله الرحمن الرحیم

دختر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نور چشم حضرت سيدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا کے والد ماجد کا وصال ہوا اور صحابہ نے اجر رسالت کي ادائيگي کي دوسري قسط کے طور پر فدک کو غصب کيا ـ جبکہ پہلي قسط کے طور پر بيعت شکني کرتے ہوئے خلافت کو غصب کرچکے تھے ـ سيدہ (س) مدينہ کي بعض خواتين کے ہمراہ مسجد رسول اللہ (ص) تشريف لے گئيں اور وہاں ايک نہايت اہم اور پر مغز خطبہ ديا، لوگوں کو متأثر ہوئے اور لوگوں کے جذبات "وقتي طور پر" ابھرے اور مسجد ميں حاضر عوام کے جذبات کچھ ايسے تھے کہ تاريخ ميں اس کي کوئي مثال نہيں ملتي-

سيدہ (س) نے حمد و ثنائے خداوندي کے بعد کئي بار مولائے متقين اور اميرالمۆمنين کا ذکر کرتي ہيں اور ان کي بے مثل شخصيت کي تعريف و تمجيد کرتي ہيں- يہاں ہم سيدہ کے تاريخي خطبے کے بعض اقتباسات پيش کرتے ہيں؛ فرماتي ہيں: "ايها الناس! اعلموا انى فاطمة و ابى‏محمد... فان تعزوه و تعرفوه تجدوه ابى دون نسائكم، و اخا ابن عمى دون رجالكم"-

اے لوگو! جان لو کہ ميں فاطمہ بنت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ہوں اگر ميرے والد کو جاننا چاہتے ہو تو ديکھ لوگے کہ رسول خدا (ص) ميرے والد ہيں، آپ تمہاري عورتوں کے والد نہيں ہيں، اور ديکھ لوگے کہ رسول اللہ (ع) ميرے ابن عمّ علي عليہ السلام کے بھائي ہيں جبکہ آپ (ص) تمہارے مردوں کے بھائي نہيں ہيں...

يہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہ نہ صرف علي عليہ السلام کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کا بھائي قرار ديتے ہيں بلکہ رسول اللہ (ص) کو بھي علي (ع) کا بھائي سمجھتي ہيں جيسا کہ---

--------

مأخذ:

خطبات جناب سيدہ سلام اللہ


متعلقہ تحريريں:

غدير و اور آيت تبليغ 2