• صارفین کی تعداد :
  • 1368
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

غدير مولي الموحدين عليہ السلام کي نظر ميں 1

من کنت مولاه فهذا علي مولاه

علي عليہ السلام کے دور خلافت ميں ايک بار عيد غدير جمعہ پر آئي تو امام (ع) نے اس روز مفصل خطبہ ديا اور اور اس حوالے سے اہم موضوعات پر بحث فرمائي-

آپ (ع) نے خدائے تعالي کي حمد و ثناء کے بعد اس کي ربوبي صفات بيان کيں، اس کي نعمتيں گنوائيں اور پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمايا: خداوند تعالي نے تمہارے لئے آج دو بہت بڑي عيديں "جمعہ اور غدير" کو ايک ساتھ قرار ديا ہے؛ دو ايسي عيديں جن ميں سے ہر ايک کے وجود کا فلسفہ دوسري عيد کے وجود کے فلسفے کو مکمل کرتا ہے اور ان ميں سے ہر ايک کے ذريعے ہدايت دوسري پر بھي اثرانداز ہوتي ہے--- اس کے بعد آپ (ع) نے فرمايا: توحيد اور خدا کي يکتائي پر ايمان اس کے نبي (ص) کي نبوت پر اعتراف کے بغير قابل قبول نہيں ہے؛ اور محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے دين و شريعت پر ايمان و اعتقاد اس شخصيت کي ولايت پر ايمان کے بغير ناقابل قبول ہے جس کي جس کي ولايت کا فرمان خداوند متعال کي جانب سے جاري ہوا ہے- اور يہ تمام امور نظم نہيں پاتے اور مکمل نہيں ہوتے مگر اس کے کہ ااہل ولايت کا دامن تھامنے اور توسل کرنے کے بعد- 

اس کے بعد فرمايا: خداوند متعال نے غدير کے دن وہ امر اپنے رسول (ص) پر نازل فرمايا جو اس نے اپنے "برگزيدہ" (ولي) کے لئے ارادہ فرمايا تھا- اور آپ (ص) کو حکم ديا کہ وصايت اور ولايت ابلاغ کريں، کفار و منافقين سے ريشہ دوانيوں کے مواقع سلب کريں اور دشمنوں کي گزند سے فکرمند نہ ہوں- روز غدير کي قدر و منزلت بہت زيادہ ہے؛ اس روز خدا کي فراخياں  نازل ہوئي ہيں- اور اس کي حجت سب پر تمام ہوئي ہے- آج اونچے اور روشن مقام سے حقائق روشن کرنے اور عقيدے کا اظہار کرنے کا دن ہے- آج دين کے تکامل اور وفائے عہد کا دن ہے-

----------

مآخذ

اقبال الاعمال، سيد بن طاووس، صص 464-461.


متعلقہ تحريريں:

غدير اور آيت اکمال