• صارفین کی تعداد :
  • 2008
  • 3/20/2012
  • تاريخ :

عشق حسين (ع) نان شب سے واجب تر 1

عاشوره

محرم الحرام کا مہينہ ہم شيعيان اہل بيت (ع) کے لئے بہت زيادہ اہم ہے- اصولي طور پر اس مہينے ميں ہمارے لباس اور گھروں کا رنگ بدل جاتا ہے اور ہمارے دلوں کي حالت کچھ زيادہ ہي بدل جاتي ہے- ليکن ہماري انتہائي آرزو يہ ہے کہ امام حسين (ع) سے ہمارا يہ عشق و محبت و عقيدہ و عقيدت ہماري آنے والي نسلوں تک منتقل ہو اور ہماري بعد کي نسليں بھي ہماري طرح ہي نہيں بلکہ ہم سے کہيں زيادہ اس خاندان کي عقيدتمند اور پيروکار ہوں-

اس مہينے کا آغاز ايک قابل قدر دستاويز ٹہرا تا کہ ہم تبيان کے دو ذمہ دار عہديداروں کے ساتھ بات چيت کريں اور ان سے اپنے فرزندوں کو حسيني اور عاشورائي بناکر پروان چڑھانے کي روشيں ان حضرات سے پوچھ ليں-

مذہبي امور کے ماہر حجت الاسلام والمسلمين جناب آقائے آقاميري اور تعليم و تربيت کے اعلي ماہر اور خانداني امور کے ماہر جناب آقائے مہدوي، ہمارے ساتھ ہمراہ ہوگئے تا کہ ہميں بتا ديں کہ عاشورا کے واقعے جتنا عظيم واقعہ بچوں تک کيونکر منتقل کيا جاسکتا ہے-

ـ جناب آقائے آقاميري، ہمارے بچوں کے لئے عاشورا کا درس کيا ہے اور ہمارے بچوں کو کيونکر حسيني بنايا جاسکتا ہے؟

جواب: مذہبي اور عزاداري کي مجالس و محافل کا انعقاد اقدار کي منتقلي کے لئے بہت اہم ہے اور ہمارے بزرگوں نے اس موضوع کو ہم سے کہيں زيادہ بہتر سمجھا اور اس کا ادراک کيا- حتي قديم زمانوں ميں جبکہ گھٹن کا ماحول تھا، انھوں نے مذہبي مجالس و مراسمات کا انعقاد فراموش نہيں کيا-

مرحوم شاہ آبادي کہتے ہيں کہ لوگوں کے دلوں ميں دينداري اور دين کي پيروي لوگوں کے دلوں ميں جگہ پائے، مذہبي انجمنوں، امام بارگاہوں اور تکايا کو توسيع اور فروغ دينے کي ضرورت ہے- معاشرے کے تمام طبقات اور عمر کے لحاظ سے تمام سطحوں کے لوگوں کے رجوع کے مقامات ميں سے ايک، جو اثر گذار بھي ہے، يہي حسينيہ اور مجلس عزاداري ہے- بچے بھي اگر بچپن ہي سے ان مقامات اور ان مراسمات ميں حاضر ہوا کريں تو يہ بہت مفيد و مۆثر ہے- حتي يہي تکايا اور حسينيات جو بچے گلي کوچوں ميں بپا کرتے ہيں، بہت زياد اثر رکھتي ہيں؛ بہت سے حسيني يہيں سے حسيني ہوگئے ہيں-

---------

تبيان کے دو عہديداروں جناب آقاميري اور جناب مہدوي کے ساتھ مکالمہ

مأخذ: تبيان


متعلقہ تحريريں:

عزت کي موت يا ذلت کي زندگي؟ 5