• صارفین کی تعداد :
  • 3346
  • 3/3/2012
  • تاريخ :

قرآن کي حقانيت اور معجزات واضح ہيں (حصّہ دوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

يہ معجزات ان انبياء کرام کي وفات کے ساتھ ہي ختم ہوگئے اور ان کا ذکر ہميں صرف آسماني صحائف يا تاريخي کتابوں ميں ہي ملتا ہے، اس حوالے سے اللہ تعاليٰ نے اپنے آخري رسول حضر ت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو قرآن مجيد کي صورت ميں جو معجزہ عطا کيا تھا وہ 1400 سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھي نہ صرف اپني اصلي حالت ميں موجود ہے بلکہ آج کے جديد سائنسي دور ميں بھي اپنا لوہا منوا رہا ہے-

قرآن مجيد جس دور ميں نازل ہوا وہ فصاحت و بلاغت اورمنطق و حکمت کا دور تھا چنانچہ جب اسے فصيح وبليغ ادبيوں ' عالموں اور شاعروں کے سامنے پيش کيا گيا تو وہ بے ساختہ پکا ر اُٹھے کہ:

'' خدا کي قسم يہ محمدصلي اللہ عليہ وسلم کا کلام نہيں ہے ''

قرآن مجيد ايسي فصيح وبليغ زبان ميں نازل ہوا جس کي نظير پيش کرنے سے انسان قاصر تھے،قاصر ہيں اور قاصر رہيں گے!مثلاًقرآن مجيد نے جب اپني فصاحت وبلاغت کا دعويٰ کيا تو عربوں نے انتہائي غورفکر کے بعد تين الفاظ پر اعتراض کيا کہ وہ عربي محاورے کے خلاف ہيں- يہ الفاظ کُبَّار،ہُذُوًااور عُجَاب تھے-معاملہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کے سامنے پيش ہوا- آپ نے معترضين کے مشورے سے ايک بوڑھے شخص کو منصف بنايا-

جبب وہ شخص آيا اور بيٹھنے لگا توآپ صلي اللہ عليہ وآلہ  وسلم نے فرمايا :'' ادھر بيٹھ جائيں ''-وہ اس طرف بيٹھنے لگا تو آپ نے فرمايا :'' اُدھر بيٹھ جائيں''-جب وہ اُدھر بيٹھنے لگا تو پھر اشارہ کرکے فرمايا :''اِدھر بيٹھ جائيں ''-اس پر اس شخص کو غصہ آ گيا اور اس نے کہا :

(( اءَنَا شَيْخ کُبَّار اءَتَتَّخِذُنِي ھُذُوًا ھٰذَا شَيئ عُجَاب ))

'' ميں نہايت بوڑھا ہوں -کيا آپ مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہيں؟يہ بڑي عجيب بات ہے ''-

يوں اس نے تينوں الفاظ تين جملوں ميں کہہ ڈالے-اس پر معترضين اپنا سا منہ لے کر رہ گئے-

ايک دوسرا واقعہ کے بارے ميں مصري عالم علامہ طنطاوي لکھتے ہيں کہ وہ ايک مجلس ميں اپنے جرمن مستشرق دوستوں کے ساتھ بيٹھے تھے -مستشرقين نےان سے پوچھا :کيا آپ يہ سمجھتے ہيں کہ قرآن جيسي فصيح وبليغ عربي ميں کبھي کسي نے گفتگو کي ہے نہ کوئي ايسي زبان لکھ سکا ہے -علامہ طنطاوي نے کہا :'ہاں ميرا ايمان ہے کہ قرآن جيسي فصيح و بليغ عربي ميںکسي نے کبھي گفتگو کي ہے نہ ايسي زبان لکھي ہے''-انھوں نے مثال مانگي تو علامہ نے ايک جملہ ديا کہ اس کا عربي ميں ترجمہ کريں:

''جہنم بہت وسيع ہے ''

جرمن مستشرقين سب عربي کے فاضل تھے ،انہوں نے بہت زور مارا-جہنم واسعة ،جہنم وسيعة جيسے جملے بنائے مگر بات نہ بني اورعاجز آ گئے تو علامہ طنطاوي نے کہا : ''لو اب سنو قرآن کيا کہتا ہے'':

(( يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّذِيْدٍ))

'' جس دن ہم دوزخ سے کہيں گے : کيا تو بھر گئي ؟ اور وہ کہے گي :کيا کچھ اور بھي ہے ؟''

اس پر جرمن مستشرقين اپني نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوۓ اور قرآن کے اعجاز بيان پر مارے حيرت کے اپني چھاتياں پيٹنے لگے-

قرآن مجيد ميں اللہ تعاليٰ نے اہل کتاب اورمشرکين کو قرآن کا مثل لانے کا چيلنج ديا تھا،پھر يہ چيلنج دس سورتوں تک محدود کرديا گيا ، حتٰي کہ صرف ايک ہي سورت کا مثل لانے کا چيلنج دے ديا گيا مگرنزول قرآن کے آغاز سے لے کر چودہ صدياں گزر گئي ہيں مگر کوئي شخص قرآن مجيد کي سي ايک صورت بھي تخليق نہيں کرسکا جس ميں کلام الٰہي کا سا حسن، بلاغت، شان، حکيمانہ قوانين ، صحيح معلومات ، سچي پيشگوئياں اور ديگر کامل خصوصيات ہوں-

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

قرآن مجيد اللہ تعالي کي طرف سے ايک عظيم تحفہ (حصّہ پنجم)