• صارفین کی تعداد :
  • 1580
  • 3/3/2012
  • تاريخ :

ہماري زندگي پر قرآن کے اثرات ( حصّہ دوّم )

بسم الله الرحمن الرحیم

دوا دينے سے پہلے مرض کا پتہ ہونا چاہيۓ اور مرض کي تشخيص کے بعد ہي دوا کے بارے ميں سوچا جاتا ہے - يہ بات واضح ہے کہ درد کے احساس اور مشکل کو پہچاننے سے پہلے دوا بتانا فطري اصول سے خارج ہے، اس لئے کہ پہلے فردي اور اجتماعي دردوں کو پہچاننا چاہئے اور قرآن کي آيات کريمہ کے مطالعہ اور ان ميں غور و خوض کے ذريعہ ان دردوں سے آگاہ ہونا چاہئے، پھر اس شفا بخش نسخہ سے استفادہ کر کے ان کا علاج کرنا چاہئے-

آج ہمارے معاشرہ اور سماج ميںبہت سے مشکلات پائے جاتے ہيں خواہ وہ فردي ہوں يا اجتماعي، اور ان مشکلات کا حل سبھي چاہتے ہيں اور باوجوديکہ مختلف شعبوں ميں بہت سي ترقياں ہوئي ہيں، ليکن بہت ساري مشکليں باقي رہ گئي ہيں، ذمہ دار افراد ہميشہ اس کوشش ميں ہيں کہ کسي صورت سے ان کو حل کريں-

حضرت علي  ـ اس خطبہ ميں فرماتے ہيں: ''وَ دَوَائَ دَائِکُم وَ نَظمَ مَا بَينَکُمْ'' قرآن تمھارے دردوں اور مشکلوں کے علاج کا نسخہ ہے، اور خطبہ 189 ميں ارشاد فرماتے ہيں: ''وَ دَوَائً لَيسَ بَعدَہُ دَائ'' يعني قرآن ايسي دوا ہے کہ جس کے بعد کوئي درد باقي نہيں رہ جاتا-

ہر چيز سے پہلے جس بات پر توجہ رکھنا لازم ہے، وہ حضرت علي  ـ کے ارشاد پر ايمان رکھنا ہے، يعني ہميں پوري طرح سے اعتقاد و يقين رکھنا چاہئے کہ ہمارے درد اور مشکلات کا صحيح علاج خواہ وہ فردي ہوں يا اجتماعي، قرآن ميں ہے-

ہم سب اس بات کا اقرار کرتے ہيں، ليکن ايمان و يقين کے مرتبوں کے اعتبار سے ہم سب مختلف ہيں، اگر چہ ايسے بھي افراد ہيں جو بھر پور طريقہ سے ايمان و يقين رکھتے ہيں کہ اگر قرآن کي طرف توجہ ديں اور اس کي ہدايتوں پر عمل کريں، تو قرآن تمام بيماريوں کا بہترين شفا بخش نسخہ ہے، ليکن ايسے افراد بہت کم ہيں، شايد ہماري مشکلات کي ايک بڑي وجہ ايمان کي کمزوري ہو اور يہ چيز اس بات کا سبب بني ہے کہ بہت سے مشکلات لاينحل ہي رہيں -

shianet.in

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان