• صارفین کی تعداد :
  • 9315
  • 4/28/2012
  • تاريخ :

کہکشاں اور خانہ بدوش سيارے

کہکشاں اور خانہ بدوش سيارے

سائنسدانوں نے اندازہ لگايا ہے کہ کہکشاں ميں گردش کرتے سياروں کے ساتھ ہر ستارے کےليے مشتري کے سائز کے دو خانہ بدوش سيارے موجود ہوسکتے ہيں

ماہرين فلکيات کہتے ہيں کہ يہ عين ممکن ہے کہ کہکشاں ميں خانہ بدوش سيارے کسي ستارے کے مدار ميں گھومنے کي بجائے محض خلا ہي ميں گردش کر رہے ہوں اور يہ بھي ممکن ہے کہ کہکشان ميں ستاروں کي بجائے ايسے ہي سيارے موجود ہوں-

گزشتہ برس خلا نوردوں نے کہکشاں ميں سر گرداں قريب درجن بھر خانہ بدوش سياروں کا پتہ چلايا  - اور اس کے لئے ايک ايسي تکنيک استعمال کي جس ميں ستاروں کي روشني پاس سے گزرنے والے  سياروں کي کشش ثقل سے  وقتي طور پر  زيادہ روشن نظر آنے لگتي ہے- اس وقت سائنسدانوں نے اندازہ لگايا کہ کہکشاں ميں گردش کرتے سياروں کے ساتھ ہر ستارے کے لئے Jupiter کے سائز کے دو خانہ بدوش سيارے موجود ہو سکتے ہيں-جيوپيٹر يعني مشتري گيس سے بھرا سيارہ نظام شمسي ميں سب سے بڑا سيارہ ہے-

کيلے فورنيا ميں سٹين فورڈ يونورسٹي ميں  Kavli Institute for Particle Astrophysics and Cosmology ريسرچرز يا تحقيق کرنے والوں کا اب اندازہ يہ ہے کہ ستاروں کے مقابلے ميں تقريبا ايک  لاکھ گنا زيادہ خانہ بدوش سيارے موجود ہو سکتے ہيں- کيولي انسٹيٹوٹ کے ايک ريسرچ سائنسدان Louis Strigari نے اس سٹڈي کي قيادت کي جس نے  Milky Way galaxy کي کشش ثقل کي شدت اور کائناتي مادے کي مقدار کا پتہ چلايا جو خانہ بدوش سياروں کي تشکيل کے لئے موجود ہيں-

وہ کہتے ہيں: ’ ہم نے اندازہ لگايا کہ ايک درجن جيوپيٹر کے حجم والے گردش کرتے خانہ بدوش سيارے تو ايک آئس برگ کے سرے کا پتہ ديتے ہيں جبکہ ايک بہت بڑي تعداد ہماري  اپني کائنات ميں موجود ہے‘-

Strigari کہتے ہيں  کي بظاہر تو ايسا ہي معلوم ہوتا ہے کہ ان ميں  زندگي موجود نہيں ليکن يہ عين ممکن ہے کہ کہ ان ميں سے کچھ کے اندر جرثومي زندگي موجود ہو چاہے ان تک سورج کي روشني اور حدت بھي نہ پہنچتي ہو- و ہ کہتے ہيں: ’اگر اِن سياروں کا ماحول مناسب ہو اور يہاں ٹيکٹونک ايکٹوٹي  يا تابکاري موجود ہے  - تو پھر حدت ٹھوس ماحول ميں  جذب ہو سکتي ہے اور يوں جرثومي زندگي قائم رکھنے ميں معاونت کر سکتي ہے‘-

Strigari يہ بھي کہتے ہيں  کہ ايسا اتفاق ہونا بھي ممکن ہے کہ دو خانہ بدوش سيارے آپس ميں ٹکرا جائيں اور يہ جرثومي ملبہ نظام شمسي ميں بکھر جائے-

خلا نوردوں کو اميد ہے کہ آئندہ عشرے کے دوران کئي خانہ بدوش سياروں کي تصديق ممکن ہو سکے گي  جب نئي طاقتور دوربينيں کام کرنے لگيں گي اور ناسا ادارے کي انتہائي ترقي يافتہ دور بينو ں سے مدد لينا ممکن ہو گا-


متعلقہ تحريريں:

تخليق کائنات کے راز سے پردہ اٹھ گيا