• صارفین کی تعداد :
  • 2700
  • 1/5/2012
  • تاريخ :

شملہ

شملہ

لوگ گرمي ميں شملے جاتے ہيں

کتني شفا ف ہے فضا اس کي

اودي اودي گھٹائيں چھاتي ہيں

ابھي بادل ہيں اور ابھي ہے دھوپ

گر صفائي کے حا ل کو ديکھيں

کتني ستھر ي ہے ہر دکان يہاں

ہو ٹلوں کي نفاستيں ديکھو!

سبزہ وادي ميں لہلہاتا ہے

اونچے پيڑوں کي ہے بہار يہاں

ہيں بلندي پہ ہر مکان سے يہ

باد ل اتنے قريب ہوتے ہيں

راستہ گر کہيں سے پاتے ہيں

يوں تو ہر منظر اس کا پيارا ہے

جب ہوں بجلي کے قمقمے روشن

قمقمے کيا ہيں کچھ ستارے ہيں               

ٹھنڈے موسم کا لطف اٹھا تے ہيں

کس قدر صاف ہے ہوا اس کي

ٹھنڈي ٹھنڈي ہوائيں آتي ہيں

ديکھو! قدرت کے يہ انوکھے روپ!

ّآپ شملے کي مال کو ديکھيں !

کتنا اچھا ہے ہر مکا ن يہاں

کوٹھيوں کي عمارتيں ديکھو

پھرنے والوں کا جي لبھاتا ہے

ہيں کھڑے چيل ديودار يہاں

بات کرتے ہيں آسمان سے يہ

پيار سے منہ زميں کا دھوتے ہيں

بند کمروں ميں بھي گھس آتے ہيں

رات کا اور ہي نظارہ ہے

ديکھو اس وقت شملے کا جوبن

آسماں نے يہاں اُتارے ہيں

شعلے سے اڑتے ہيں فضاۆ ں ميں

شمعيں آوارہ ہيں ہواۆ ں ميں

شاعر کا نام : اختر شيراني

پيشکش: شعبہ تحرير و پبشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

پپيہے کا گيت