• صارفین کی تعداد :
  • 3574
  • 1/5/2012
  • تاريخ :

چرواہا

چرواہا

پہاڑي کے پاس ان ببولوں کو ديکھو

جہاں سامنے بکرياں چر رہي ہيں

وہيں ايک پيپل کا پودا لگا ہے

قريب اس کے لمبي سي لاٹھي پڑي ہے

يہ ہر روز ريوڑ چراتا ہے آ کر

سنو آج بھي تو يہ کچھ گا رہا ہے

ہے گرمي بہت سخت اور دوپہر ہے

نہ گرمي کي پروا نہ کھانے کي پروا

خُدا جانے معصوم کو فکر کيا ہے

سنو! وہ خُدا سے دعا کر رہا ہے

الہٰي ! بہت جلد برسا دے پاني               

چمکتے ہوئے زرد پھولوں کو ديکھو

نہيں گھاس پيٹ اپنا پر بھر رہي ہيں

اور اک ننھا لڑکا کھڑا گا رہا ہے

اور اک ننھي مني سي بکري کھڑي ہے

اور اکثر يہاں گيت گاتا ہے آ کر

کہ دامن پہاڑي کا تھرا رہا ہے

مگر اس کي معصوميت بے خبر ہے

ہے گلے کي اور اپنے گانے کي پروا

کہ آواز ميں درد اس کي بھرا ہے

کہ ريوڑ مرا بھوک سے مر رہا ہے

ہے پياسي زميں منہ ميں ٹپکا دے پاني

ہري گھاس جنگل ميں اگ آئے يا رب!

کرم اتنا دنيا پہ ہو جائے يا رب !!

شاعر کا نام : اختر شيراني

پيشکش: شعبہ تحرير و پبشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

تا روں بھري رات