• صارفین کی تعداد :
  • 3090
  • 1/5/2012
  • تاريخ :

پپيہے کا گيت

پپیہا

ارے آم پر گانے والے پپيہے 

ذرا ويسے ہي تان اونچي لگا دے

ميں اس وقت پڑھنے سے اکتا گيا ہوں

عجب ٹھنڈي ٹھنڈي ہوا آ رہي ہے

پھري رت- بہا ر آئي- پلٹا ز ما نہ

مرا دل ہے تجھ ميں- تراجي کہاں ہے ؟

تري پياري آواز لہرا رہي ہے ؟

 ترا گيت سن سن کے حيران ہوں ميں

ترا گيت سب سے الگ ہے نيا ہے

تو اس رت ميں آيا ہے بتلا کہاں سے ؟

ادھر آ پپيہے ! مرے پاس آ جا

وہاں بھي ہيں کيا يونہي آباد بچے

پپيہوں کا گا نا يوں ہي سنتے ہيں وہ؟

مري طرح وہ کھيلتے ہيں چمن ميں ؟

پپيہے ! مجھے ان کا قصہ سنا دے !

 تري راگني خواب دکھلا رہي ہے

تري لے سے بے ہو ش ہو جاۆ ں گا ميں !

 مرے دل کو بہلانے والے پپيہے

سنا دے ! وہي راگني پھر سنا دے

ہوا کھانے کو باغ ميں آ گيا ہوں

گھٹا چھا رہي ہے گھٹا چھا رہي ہے

پپيہے ! پپيہے ! ذرا گيت گانا

پپيہے ! ذرا پھر سُنا، پي کہاں ہے ؟"

درختوں کي شاخوں ميں تھرّا رہي ہے

نہ حيران ہو تُو کہ ان جان ہوں ميں

پپيہے ! تر ي لے ميں جادو بھرا ہے

پر ستاں سے- جنت سے- يا آسماں سے ؟

مجھے باغ جنّت کا قصہ سنا جا

مري طرح خوش اور دل شاد بچے

يونہي ان کے گيتوں پہ سر دھنتے ہيں وہ؟

يونہي پھرتے ہيں کيا وہ با غ اور بن ميں ؟

دکھا دے ذرا ان کا نقشہ دکھا دے !

پپيہے ! بس اب مجھ کو نيند آ رہي ہے

کتابوں پہ سر رکھ کے سو جاۆ ں گا ميں

شاعر کا نام : اختر شيراني

پيشکش: شعبہ تحرير و پبشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ہماري زبان