• صارفین کی تعداد :
  • 11782
  • 12/8/2011
  • تاريخ :

خوشبو + شور

مسکراہٹ

ايک ديہاتي شہر گيا- جب وہ بازار سے گزرا تو اس نے مٹھائيوں کي دکان ديکھي - وہ دکان کے سامنے کھڑا ہو گيا اور مٹھائيوں کي طرف ديکھنے لگا-

حلوائي نے اس سے پو چھا کہ کيا کر رہے ہو؟“

ديہاتي نے کہا ”‌تمہاري مٹھائيوں کي خوشبو سے اپنا دل خوش کر رہا ہوں-“

حلوائي نے بيوقوف سمجھ کر اسے لوٹنے کے ارادے سے کہا ”‌ تم مجھے خوشبو کي قيمت ادا کرو-“

ديہاتي ذرا ہوشيار نکلا- اس نے چند سکے جھنکارے اور جيب ميں رکھ ليے-

حلوائي چونکا- ”‌يہ کيا؟

ديہاتي: ميں نے اس کے شور سے تمہاري مٹھائيوں کي قيمت ادا کر دي ہے-“

 

بشکريہ ؛ بزم ساتهي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان