• صارفین کی تعداد :
  • 2570
  • 11/11/2011
  • تاريخ :

ساساني دور حکومت ميں موسيقي

ساسانی دور حکومت میں موسیقی

ساساني حکومت کا دورانيہ تقريبا چار سو سال تک محيط تھا اور ايران کي تاريخ ميں  قبل از اسلام  ساساني دور حکومت کو موسيقي کے لحاظ سے درخشاں زمانہ تصوّر کيا  گيا ہے -  اس  دور ميں  مختلف علاقائي طاقتوں کي جگہ ايک مرکزي قوّت سامنے آئي جس کے دربار ميں ملک بھر سے ہنر مند اور فنکار جمع ہوۓ اور يوں اس دور حکومت ميں فنون لطيفہ کو اور خاص طور پر موسيقي کو بہت زيادہ ترقي نصيب ہوئي -

ھخامنشي اور اشکاني دور حکومت کي نسبت ساساني دور ميں موسيقاروں کے متعلق ہماري آگاہي قدرے بيشتر ہے -  خوش قسمتي سے ساساني دور کے بعض کتبے اس وقت کي رائج زبان پارسي ميانہ ميں يا اس کے ترجمے کي شکل ميں ہوبہو ہم تک پہنچے ہيں جن سے اس دور کي موسيقي اور موسيقاروں کے  متعلق معلومات جمع کرنے ميں بےحد زيادہ مدد ملي ہے - حاصل شدہ معلومات سے يہ بات مسلم ہے کہ اس دور ميں موسقي کو بےحد اہميت حاصل تھي اور ساساني بادشاہ موسيقي کو زندگي کي ايک ضرورت تصوّر کرتے تھے - بادشاہ اردشير بابکان خود طبلہ بجانے ميں بہت مہارت رکھتا تھا - کہا جاتا ہے کہ  بادشاہ اردشير بابکان نے ايران کے لوگوں کو چار طبقوں ميں تقسيم کر رکھا تھا -

پہلا طبقہ :  فوجي سوار

ان ميں شاہزادگان قسم کے  لوگ شامل تھے

دوسرا طبقہ : زاہد اور پاکباز لوگ جو آتشکدوں کے خدمت گذار تھے

تيسرا طبقہ :  ڈاکٹر ، لکھنے والے اور ستارہ شناس شامل تھے

چوتھا طبقہ : کاشتکار،ذليل و خوار  وغيرہ وغيرہ

ساساني سلطانوں کے درباروں ميں موسيقاروں کي بےحد قدر تھي  - موسيقار نہ صرف شاہي دربار اور اميروں کے ہاں قابل قدر لوگ تھے بلکہ عوام ميں بھي ان کو بہت اہميت دي جاتي اور ان کي مقبوليت بےحد زيادہ تھي - بھرام گور کے دور ميں موسيقاروں کو ہندوستان سے بلوايا گيا تاکہ ملک ميں پائي جانے والي کمي کو دور کيا جاۓ -

ساساني دور حکومت ميں موسيقي کا رواج بادشاہ اردشير بابکان کے تعاون کے بعد عمل ميں آيا -  بادشاہ اردشير بابکان کا دور حکومت بيس سال  (241-226 ميلادي) پر محيط تھا مگر اس بادشاہ نے اس کم عرصہ ميں ايران کو نظم و ضبط اور ثقافتي لحاظ سے دنيا ميں ايک اعلي مقام دلوايا -

ماني اور مزدک جيسي شخصيات کے منظر عام پر آنے سے ھنري ادب  کي مختلف اقسام کو ترقي ملي اور اس سے لگاۆ رکھنے والے افراد ميں قابل قدر اضافہ ديکھنے ميں آيا -

اس عرصے ميں مکتب ماني کي نقاشي ، مختلف کتابيں مثلا اردشير بابکان کے کارنامے ، خداينامہ  اور اس جيسي بہت سي دوسري کتابوں کي طرف اشارہ کيا جا سکتا ہے جن کے اثرات آج بھي باقي ہيں -

بادشاہ ارشير بابکان نے موسقاروں کو بھي طبقوں ميں تقسيم کيا ہوا تھا اور ان کے ليۓ مخصوص قوانين بناۓ گۓ تھے - انوشيروان نے حقوقي اور قانوني لحاظ سے  فنکاروں کو بےحد رعايت دي ہوئي تھي اور بھرام گور کے دور ميں بھي کچھ ايسے ہي حالات تھے -

ساساني دور حکومت ميں موسيقاروں کي حوصلہ افزائي کرنے کي وجہ سے عوام بھي موسيقي کے شوقين ہو گۓ تھے اور اس دور ميں موسيقي دانوں کو عوام عزت کي نگاہ سے ديکھتي تھي - اس دور کے مشہور موسيقي دان  نکيسا ، بامشاد اور رامتين تھے -

اس دور ميں موسيقاروں کو درباريوں کے برابر درجہ ديا گيا اور بادشاہ وقت نے درباريوں کو سات طبقوں ميں تقسيم کر ديا تھا اور موسيقار پانچويں طبقے ميں شمار ہوتے تھے - ساساني دور ميں موسيقي کا علم بہت عروج پر پہنچ گيا حتي کہ مسيحي برادري کے روحاني بزرگ  مشرقي روم  سے صرف موسيقي کي دھنيں سيکھنے کے ليۓ  ايران کے درالحکومت آيا کرتے تھے -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

قاجاري دور حکومت ميں عورتوں کا لباس