• صارفین کی تعداد :
  • 7447
  • 9/23/2011
  • تاريخ :

رومي کے حالات زندگي

مولانا جلال الدین بلخی
رومي 1207ء ميں بلغ کے شہر ميں پيدا ہوئے - اس وقت تمام ايشيا سماجي وسياسي اورعسکري نقصانات برداشت کر رہا تھا- ان کے والد گرامي محمد بہاؤالدين الصديقي ، جن کا سلسلہ نسب دس واسطوں سے حضرت ابوبکر سے ملتا ہے- جو اسلام کے پہلے خليفہ تھے - طاہر المولوي کے مطابق رومي کي والدہ ماجدہ بھي سرکار دو عالم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نسل پاک سے تعلق رکھتي تھيں - رومي اس متبرک اور مطہر خاندان کے شجر محمود کا مقدس ثمر تھے -

 سلطان العلماء کي حيثيت خاص ميں ان کے والدگرامي مرد حق اور وارث پيغمبر اسلام تھے- رب العزت کے ديگر اولياء کاملين کي طرح ، انہوں نے سخت مصائب برداشت کيے اور بالآخر ہجرت کرنے پر مجبور کرديے گئے - اس طرح انہوں نے خوارزم کي سرزمين کو چھوڑا، جہاں وہ پيدا ہوئے تھے - اور ايک اذيت ناک اور طويل ترين سفر طے کيا- جو مختلف مقام منازل پر مشتمل تھا- سب سے پہلے انہوں نے اپنے افراد خاندان کے ہمراہ مقدس سرزمين مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ ميں حاضري دي - يہاں سے انہوں نے دوبارہ سفر شروع کيا اور دمشق ميں کچھ عرصہ قيام پذير رہے - جہاں  ان کي ملاقات بہت سے اولياء کاملين سے ہوئي - ابن العربي جيسے اولياء اللہ سے روحاني کمالات اور فيوض و برکات سے استفادہ کيا- چھ يا سات سال کي کم عمري ميں رومي اپنے والدگرامي کے ہمراہ ان تمام حالات و واقعات کا مشاہدہ کيا - ان کي روحاني اسرار و رموز دريافت کرنے کي عادت اورحسن تجسس نے ان کو اس قابل بنا ديا کہ وہ تمام تجربات اور احوال کا غير معمولي لياقت سے احاطہ کرسکيں - اس کم عمري ميں رومي نے اپنے پاکيزہ ماحول کو مکمل طور پر دل نشين کر ليا تھا- اور ان پر ابن عربي کے رموز و اسرار روحاني حقيقت مکمل طورپر منکشف ہو گئي تھي - رومي نے ابن عربي سے کامل يکسوئي سے روحاني فيض حاصل کيا-

گردش ليل و نہار نے ان کي ہجرت کے سفر کو کبھي چين نہيں لينے ديا- اس سخت سفر ہجرت نے انہوں گوناں گوں فيوض و برکات، فيضان روحاني اور وجداني تحريک سے مستفيد کيا- حضرت ابراہيم، حضرت موسي اور بالخصوص پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کي پيروي ميں رومي نے تواتر کے ساتھ ان فيوض وبرکات اور روحاني انعامات کو تلاش کرنے ميں کامياب وکامران رہے - تقدير الہي نے ان کو جو کچھ عطا کيا، رومي نے قبول کيا - اور رب العزت نے انہيں کثير احسانات اور انعامات سے سرفراز فرمايا تھا-

يہ متبرک اور ممتاز خاندان سفر کے دوران شہر Erizncan اور پھر کرامان Karaman قيام پذير ہوا- اس مختصر قيام کے دوران رومي نے کرامان ميں مختلف عرصہ کے ليے ميں Halavey School ميں تعليم حاصل کي - مزيد اس مدرسہ کے علاوہ انہوں نے ديني علوم اور روحاني سائينسيز Spiritual Sciences کي تعليم دمشق اور Aleppu کے مدارس سے حاصل کي - گريجويشن کرنے کے بعد قونيہ تشريف لائے - جس کو انہوں نے مستقل مسکن بنا ليا- اوربہت ہي عزت ومرتبہ سے قونيہ کي سرزمين کو سرفراز فرمايا- يہاں پر انہوں نے حضرت شمس الدين سرقندي کي بيٹي Gekher Khafun سے نکاح فرمايا- کچھ عرصے بعد رومي کے والد گرامي سلطان العلماء اللہ کو پيارے ہو گئے - بہاء الدين ترمزي کي نگراني ميں رومي نے اپنا طويل روحاني سفر شروع کيا- چند برسوں کے بعد رکن الدين زرکوبي کي تجويز پر رومي نے حضرت شمس الدين تبريزي سے قونيہ ميں ملاقات کي، جو اس وقت قونيہ کے سفر پرتھے - شمس الدين تبريزي کي صحبت سے فيض ياب ہوئے - اعلي وارفع روحاني منازل طے کيں - اورايک مرد حق اورمرد کامل کے اوصاف طيبہ اپني ذات اقدس ميں جمع کيے -يہ شمس تبريزي کا فيضان نظر ہے کہ رومي نے روحاني رموز واسرار کي بنا پر تمام دنيا ميں شہرت دوام حاصل کيا-

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

وحشي بافقي يزدي

عنصري

طاہرہ صفار زادہ

ابوالفرج روني

جلال آل احمد