• صارفین کی تعداد :
  • 3676
  • 8/14/2011
  • تاريخ :

والدين کا احترام

والدین کا احترام 

قرآن کريم اور اہلبيت [ع] کے دستورات ميں ايک اہم دستور والدين کا احترام ہے- يہ حکم قرآن کريم کے چار سوروں ميں مستقل طور پر مسئلہ توحيد کے بعد بيان ہوا ہے-

اس کے علاوہ قرآن مجيد کے مختلف مقامات پر اس موضوع سے متعلق تذ کر ديا گيا ہے کہ والدين کا احترام اور اکرام بے انتہا اہميت کا حامل ہے-

ان آيات کا پيغام ايک کلي نگاہ ميں يہ ہے کہ ہر مسلمان کا فريضہ ہے کہ اپنے والدين کا احترام کرے-

ان کے ساتھ نرم گفتگو کرنا، اچھا سلوک کرنا حتي انہيں اف تک بھي نہ کہنا والدين کے احترام کا ايک نمونہ ہے جس کي طرف قرآن کريم نے اشارہ کيا ہے-

يہ چيز آئمہ معصومين عليھم السلام کي سيرت ميں بھي واضح اور آشکار نظر آتي ہے-

درج ذيل روايتيں اکرام والدين کي فوق العادہ اہميت کي طرف اشارہ کرتي ہيں:

منصور بن حازم کہتے ہيں: امام صادق عليہ السلام سے ميں نے پوچھا: اي الاعمال افضل؛ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمايا: الصلوۃ لوقتھا و بر الوالدين و الجھاد في سبيل اللہ؛ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا، والدين کے ساتھ نيکي کرنا اور راہ خدا ميں جہاد کرنا-

دوسري روايت ميں، ايک شخص نے رسول خدا [ص] سے حقوق والدين کے بارے ميں سوال کيا: آنحضرت نے فرمايا: لايسميہ باسمہ و لا يمشي بين يديہ و لا يجلس قبلہ و لا يستسبّ لہ

اپنے باپ کو اس کے نام سے نہ بلائے اس سے آگے ہو کر راستہ نہ چلے اس سے پہلے نہ بيٹھے- اور سب و شتم کا زمينہ فراہم نہ کرے-

اس کے علاوہ اہلبيت [ع] کي نگاہ ميں غير مومن والدين کے حقوق کي رعايت اور جو والدين دنيا سے جا چکے ہيں  ان کو ياد کرنے کي تاکيد بھي کي گئي ہے- اس سلسلے ميں تاريخ کے اندر کافي اشارے ملتے ہيں:

1: ايک جوان احتضار کي حالت ميں تھا شہادتين کو اپني زبان پر جاري نہيں کر پا رہا تھا- رسول خدا [ص] اس مشکل کي طرف متوجہ ہو گئے- اس کي ماں کو بلايا اور اس سے رضايت حاصل کي- اس کے بعد اس جوان نے شہادتين کو زبان پر جاري کيا- پيغمبر اسلام نے اسے دستور ديا کہ يہ دعا کرے: «يا من يقبل اليسير و يعفو عن الکثير اقبل منّى اليسير واعف عنّى الکثير إنّک أنت الغفور الرّحيم» اس جوان نے ديا دعا کي خدا وند عالم نے اس کے گناہوں کو بخش ديا

2: امام سجاد عليہ السلام کا ماں کے ساتھ ايک برتن ميں کھانا کھانے سے انکار کرنا اہلبيت [ع] کے نزديک والدين کے احترام کا ايک نمونہ ہے- ايک شخص نے پوچھا: آپ تو احسان اور نيکي کے ميدان ميں بہترين لوگوں ميں سے ہيں پس کيوں اپني ماں کے ساتھ کھانا نہيں کھاتے؟ امام نے فرمايا: ميں نہيں چاہتا کہ جس لقمہ کو ميں اٹھالوں ماں نے اس کے اٹھانے کا ارادہ کر رکھا ہو-

3: ايک عورت پيغمبر اسلام [ص] کي خدمت ميں شرفياب ہوئي پيغمبر[ص] اس کو ديکھنے سے بہت خوش ہوئے اور اپني عبا اس کے پيروں کے نيچے بچھائي اس حال ميں کہ لبوں پر تبسم تھا اور اس سے گفتگو کرنے لگے-

اس کے بعد اس خاتون نے بزم پيغمبر کو ترک کيا اس خاتون کا بھائي آنحضرت [ص] کے پاس آيا ليکن پيغمبر اسلام [ص] نے اس کي بہن کي طرح اس کے ساتھ رفتار نہيں کي- آنحضرت سے لوگوں نے کہا: کيوں ويسي رفتار آپ نے اس کے بھائي کے ساتھ نہيں کي؟ فرمايا: اس کي بہن کي نسبت ميرے زيادہ احترام کي دليل يہ تھي کہ وہ اپنے بھائي سے زيادہ اپنے باپ کے ساتھ نيکي کرتي ہے-


متعلقہ تحريريں:

انگوٹھا چوسنا

اسلام ميں عورت کا حق وراثت

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تمام والدين کي  آرزو (حصّہ سوّم)

تمام والدين کي  آرزو ( حصّہ دوّم )