• صارفین کی تعداد :
  • 1756
  • 8/6/2011
  • تاريخ :

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں ( حصّہ ششم )

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں

مختصر يہ کي آج کي دنيا نہ اپنے اسلاف کے قوانين کو قبول کرتي ہے اور نہ اس سے ان کو قبول کرنے کي تو قع کي جا سکتي ہے - نتيجہ کے طور پر انساني معاشروں ميں نافذ ہونے والے قوا نين مسلسل قابل تغير ہيں اور عالم بشريت کے گونا گوں تحّولات کے مطابق مکمل ہوتے ہيں اور اعمال کے قوانين ميں تبديليوں کے پيش نظر اخلاق بھي قابل تغير ہے ، کيونکہ اخلاق وہي ثابت نفساني صورتيں اور ملکہ ہے جو عمل کے تکرار سے وجود ميں آتا ہے -

دوہزار يا تين ہزار سال قبل خاموش اور سادہ زندگي کو آج کي باريک اور پيچيدہ زندگي کي سياست قبول نہيں کرتي ،آج کے معاشرہ کي خواتين دو ہزار سال پراني خواتين کي عفت پر عمل نہيں کر سکتي ہيں !

عصر حاضر کے مزدور،کسان اور دوسرے محنت کش طبقے قديم زمانے کے مظلوم طبقات جيسا صبرو تحمل نہيں رکھ سکتے ہيں - فضا کو تسخير کرنے والے زمانہ سے مربوط انقلابي مغز والے انسان کو سورج گہن ، چاند گہن اور سياہ طوفان سے نہيں ڈرايا جا سکتا اور انھيں توکّل اورقضا پر تسليم ورضا سے قانع نہيں کيا جا سکتا -

مختصر يہ کہ ہر زمانہ کا انساني معاشرہ اسي زمانہ کے مطابق و مناسب قوانين اور اخلاق چاہتا ہے-

دوسري جانب سے اسلام کي دعوت نے ايک روش اور قوانين کے ايک سلسلہ کو مد نظر رکھا ہے ، جو انساني معاشرہ کي سعادت کي بہترين صورت ميں ضمانت ديتے ہوئے انساني زندگي کي ضرورتوں کو پورا کرتے ہيں اور ''اسلام '' اسي واضح ،روشن اورمقدس قوانين کا نام ہے - جيسا کہ ''اسلامي تحقيقات'' کے عنوان سے ہمارے پہلے مجموعہ ميں ''قرآن کي نظر ميں دين ''کے موضوع ميں مفصل بحث ہوئي ہے -

بديہي ہے کہ اس قسم کي روش اور قوانين ہر زمانہ ميں مختلف مظاہر رکھتے ہيں ان ميں خود پيغمبراسلام (ص) کي روش اور قوانين بھي ہيں جنھيں آپ (ص) اپنے زمانہ ميں نافذ فرماتے تھے - دوسرے زمانوں ميں بھي اسلام کے مظاہر بہترين اور مقدس ترين روش اور قوانين ہوں گے جواس زمانے کے انساني معاشرہ کي ضرورتوں کو پورا کرسکيں -

اس بيان سے واضح ہوا کہ اس بحث ميں مسلّم علمي معياروں پر تکيہ کرنے کے ضمن ميں مغربي دانشورکا جواب مثبت ہوگا ،ليکن مИورہ تفسير کے ضمن ميں اس کي نظر ميں اسلام ايک ابدي دين الہي ہے جو ہر زمانہ ميں اس زمانہ کے معاشرہ کي سعادت کوضمانت بخشنے کے لئے بعض قوانين کي صورت ميں رونما ہوتا ہے -

ليکن ديکھنا چاہئے کہ کيا اسلام کي آسماني کتاب اور اس مقدس دين کے مقاصد کا بہترين ترجمان قرآن مجيد بھي ،نبوت کو مИورہ معني ميں اور آسماني دين کو اسي ترتيب سے (جيسے اجتماعي،نفسياتي ،فلسفي اور مادي بنيادوں پر تکيہ کرکے تعبير کي گئي ہے) تفسير کرتا ہے کہ ہر زمانہ ميں اس زمانہ کے مطابق اس سے مخصوص کچھ جدا قوانين کو قبول کرتا ہے اور اگر اس کے برعکس کچھ ثابت اور ناقابل تغير عقائد اخلاق اور قوانين کو وضع کرکے انساني معاشرہ کو ان پر عمل کر نے کے لئے مکلف کرتا ہے ،تو انھيں کيسے مختلف زمانوں کے لوگوں کي ضرورتوں سے تطبيق کيا جا سکتا ہے؟

کيا قرآن مجيد يہ چاہتا ہے کہ انساني معاشرہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ايک ثابت حالت ميں رہے اور تہذيب وتمدن پر ترقي کے راستے مکمل طور پر بند رہيں اور انسان کي روز مرہ فعاليت مکمل طور پر سر بستہ رہے ؟يہ رواں فطرت اور عالم بشريت کے فطري نظام ،سے مقابلہ کے مقام پر ،جو اس کي حکومت کے قلمرو سے خارج نہيں ہے ، کيسے نکلا ہے؟

يہ امر مسلّم ہے کہ قرآن مجيد اپنے بنيادي بيان سے آسماني دين کے موضوع اور عالم غيب سے سر چشمہ حاصل کرنے ، نظام خلقت اور اس مشہور دنيا سے رابطہ ديني احکام کے دائمي اور ثابت ہونے،انساني اخلاق،ايک فرد يا انساني معاشرہ کي خوشبختي وبدبختي کے بارے ميں اس طرح وضاحت کرتا ہے جو ايک مغربي دانشور کي مذ کورہ وضاحت سے مختلف ہے ،ان مطالب کو قرآن مجيد کي نظر سے دوسري صورت ميں ديکھا جاتا ہے جبکہ بصري وسائل ،مادي بحثوں کو دکھاتے ہيں -

قرآن مجيد دين اسلام کے طريقہ کار اورقوانين کو مسائل و احکام کا ايک ايسا سلسلہ جانتا ہے جو نظام خلقت،خاص کر انسان کي خلقت کو اسي اپني متحول فطرت سے (جو عالم فطرت کا جز تھا اور لمحہ بہ لمحہ اپنے وجود ميں تغير پيدا کرتا ہے ) اپني طرف راہنمائي کرتا ہے -

دوسرے الفاظ ميں قرآن مجيد ،اسلام کو قوانين کا ايک ايسا سلسلہ جانتا ہے کہ نظام خلقت کا تقاضا اس کے مطابق ہے اور اپني بنياد کي طرح ناقابل تغير ہے اور کسي کي نفساني خواہشات کے تابع نہيں ہے ، اسلام کے يہ قوانين ،حق کو مجسم جاننے والے قوانين ،جيسے استبدادي اور مطلق العنان ممالک کے قواعد وضوابط ، جو ايک ڈيکٹيڑ اور حاکم کي مرضي يا اکثريت کے مرضي کے مطابق اشتراکي ممالک کے قوانين کي طرح متغير نہيں ہوئے ہيں ،اور صرف ان کے وضع اور تشريع کي زمام نظام خلقت کے ہاتھ ميں ہے اور دوسرے الفاظ ميں ،خالق کائنات کے ارادہ کے تابع ہے -ہم اس مطلب کي تفصيلي وضاحت اس بحث کے دوسرے حصہ ميں پيش کريں گے -

تحرير :  استاد علامہ طباطبائي

mahdimission


متعلقہ تحريريں :

مخالفين صلح

صلح حديبيہ کا پيمان

پيغبر کي بيوي پر تہمت (حديث افک)

غزوہء بني مصطلق يا مريسيع

تبليغ اسلام کے سلسلے ميں چند پيچيدگياں اور اُن کے حل