• صارفین کی تعداد :
  • 2263
  • 8/4/2011
  • تاريخ :

ہائے ر ے تکيہ کلام (حصّہ دوّم)

بالاخره کتاب عامیانه خوبه یا نه؟

اگلے روز صبح صبح دادا حضور نے ہميں جگايااور حکم نازل کيا کہ ميں نے تمہارے ليے اخبار منگوايا ہے- شہر ميں اخبار کے عادي ہو گے ناں اس ليے - جلدي سے اٹھو، اخبار خود بھي پڑھو اور مجھے بھي پڑھ کر سنا ؤ-

ہم ہاتھ منہ دھو کر صحن ميں پہنچے تو دادا پلنگ پر گا ؤ تکيہ لگائے حقہ نوش فرما رہے تھے- ہم اخبار پڑھنا شروع کر ديتے ہيں ليکن وہ اپنے حقے ميں اس قدر مشغول ہيں کہ ہم بڑي سے بڑي قسم کھا کر کہہ سکتے ہيں کہ وہ ايک لفظ نہيں سن رہے تھے- غالباً انہيں ڈر تھا کہ انہيں يوں مصروف ديکھ کر کہيں ہم چلے نہ جائيں- اس ليے وہ کبھي کبھار ہميں ايک ”‌اچھا” سے سرفراز فرما رہے تھے- ہم نے انہيں جانچنے کے ليے ايک خبر پڑھي بلکہ گھڑي-”‌ايک بيکار نوجوان نے ملازمت مل جانے کي خوشي سے بے قابو ہو کر خودکشي کر لي- اس خبر سے شہر ميں سنسني پھيل گئي ہے- مزيد اطلاعات کا انتظار ہے، پوليس تفتيش کر رہي ہے-”

”‌اچھا -” انہوں نے حقے کا ايک ”‌کش” لگايا-

پھر کيا تھا، ہم خبريں ’پڑھتے‘ ہي گئے- دريائے سين ميں سخت طوفان- ہزاروں آدمي چلو بھر پاني میں ڈوب کر مر گئے- فصليں ڈوب گئیں-

”‌اچھا-” وہ بدستور حقے ميں مبتلا تھے-

”‌جزائر شرق الہند کے براعظم ميں بہت بڑا سياسي جلسہ، ليڈر کي جوشيلي تقرير، جس نے باشندوں کو غيرت دلاتے ہوئے کہا کہ اگر تم ميں زرا سا بھي حب الوطني کا مادہ ہے اور تم سچ مچ اپنے ملک سے محبت کرتے ہو ، اسے ديگر ممالک کي طرح ترقي يافتہ ديکھنا چاہتے ہو تو مجھے ووٹ دے کر دکھا ؤ-”

”‌اچھا.... اچھا-”

”‌اچھ.... آہاہاہا؟”

غرض يہ کہ ہم نے آدھ گھنٹے تک خبريں پڑھيں- حتيٰ کہ خبريں ختم ہوگئيں- ہميں اشتہار سنانے پڑے- مگر ان کي ”‌اچھا” ختم نہ ہوئي- بعد ميں علم ہوا کہ يہ ان کا نيا تکيہ کلام تھا- سارا دن ہم نے بوريت ميں گزارا- دادا کي باتوں بلکہ ان کے تکيہ کلاموں سے بچتے بچتے شام ہو گئي- شام کے بعد دادا نے اعلان فرمايا کہ رات کو ہمارے ايک شکاري دوست آرہے ہيں- ان کے اعزاز ميں دعوت طعام رکھي گئي ہے- تمام بچے تيار رہيں- شکاري صاحب بھي آن پہنچے- ان کے بارے ميں انکشاف ہوا کہ وہ اس قدر باتوني ہيں کہ عشاءکے بعد اپني داستان شروع کرتے اور صبح کي اذان سن کر ختم کرتے- کھانے کے بعد انہوں نے شير کے شکار سے بسم الله آ کي ،بولے

”‌ رات کے کوئي دو بجے ہوں گے، گھپ اندھيرا ، ہُو کا عالم ، گھنے جنگل کي بھيانک رات، ميں مچان پر بيٹھا شير کا منتظر تھا- ايسے ميں کس قسم کے خيالات آتے ہوں، آپ کے ليے اندازہ لگانا مشکل ہے-”

”‌ پھر کيا ہوا؟” دادا بولے-

”‌ذرا ہي آہٹ پر ميں چونک پڑتا، پتہ کھڑکتا تو ميرا دل دھڑکنے لگ جاتا، اندھيرا ايسا تھا کہ ستاروں کي روشني بھي ختم ہو کر رہ گئي تھي، وہ ايسي ڈرا ؤني رات تھي کہ بس کيا بتاؤں-”

”‌بہت خوب ! تو پھر کيا ہوا؟” دادا بولے-

”‌اتنے ميں ايک عجيب سا شور سنائي ديا- جيسے جنگل کا جنگل جاگ اٹھا ہو، پرندے اپني بولياں بولنے لگے، درندے دھاڑنے لگے، غرض يہ کہ طوفان سا آگيا-”

”‌ پھر کيا ہوا؟” دادا بولتے چلے گئے-

اس مرتبہ شکاري نے بہت برا منہ بنايا اور بولے-

”‌اتنے ميں ايک زبردست گرج سنائي دي، جيسے کوئي ايٹم بم پھٹ پڑا ہو، بچو آپ نے جنگل کے شير کي گرج نہيں سني، چڑيا گھر کے شير کي گرج سني ہوگي- اس کي گرج اصلي شير کے مقابلے ميں بلي کي ميا ؤں مياؤں سے زيادہ نہيں-”

”‌اچھا ! تو پھر کيا ہوا؟” دادا پوچھتے ہي چلے گئے-

شکاري صاحب کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا-

”‌ميں نے بندوق تاني، نشانہ باندھا اور لب لبي دبا دي ليکن کچھ نہ ہوا- اچانک مجھے ياد آيا کہ بندوق تو خالي ہے- کار توس تھيلے ميں بند تھے اور تھيلا درخت کے نيچے گھاس ميں پڑا تھا- کچھ دير تو ميں سوچتا رہا کہ کيا کروں اور کيا نہ کروں، آخر جان پر کھيل کر نيچے اترنے لگا- شير نے ميري طرف گھورا-

”‌ آپ سوچيں اس وقت ميري کيا حالت ہوگي؟”

”‌سوچ لي! پھر کيا ہوا؟” دادا بھي دادا تھے-

”‌ پھر يہ ہوا” شکاري صاحب جھلا کر بولے ”‌ مجھے ياد آيا کہ دو کارتوس ميري جيب ميں بھي پڑے ہيں- جلدي سے نکال کر بندوق ميں بھرے اور فائر کيا، گولي شير کي پيشاني پر لگي-”

”‌يعني کہ شير مر گيا، پھر کيا ہوا؟” دادا بھي آخر ہمارے دادا تھے-

”‌ پھر کيا ہوا؟” شکاري صاحب اپنے بالوں کو نوچتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے، شايد يہ کہنا چاہتے تھے کہ پھر ميرا سر ہوا-

وہي شکاري صاحب جن کے متعلق مشہور تھا کہ داستان شروع کريں تو ختم ہونے کا نام نہ ليتي تھي- اب پانچ منٹ ميں ہتھيار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے- ہميں پھر بعد ميں معلوم ہوا کہ دادا اسے تنگ نہےں کر رہے تھے بلکہ يہ تو ان کا نيا تکيہ کلام تھا-خير اسي طرح ہم نے کوئي ايک ہفتہ دادا کے ہاں گزارا اور خوب مزے کيے- واپسي کے وقت دادا جان ”‌ بھئي رکو” کہے جا رہے تھے جبکہ ہم نے اسے بھي ان کا نيا تکيہ کلام قرار دے ڈالا-

ختم شد

 

تحریر : محمد شاہد حفيظ


متعلقہ تحريريں :

محنت کا پھل

ہم روشني ہيں

آج کا کام ابھي

دو کبوتر (حصّہ ششم)

دو کبوتر (حصّہ پنجم)