• صارفین کی تعداد :
  • 3560
  • 8/1/2011
  • تاريخ :

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 111- 110 کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحيم
حتي اذا استيئس الرّسل و ظنّوا انّہم قد کذبوا جائہم نصرنا فنجّي من نّشاء ولا يردّ باسنا عن القوم المجرمين (خدا کي طرف لوگوں کو بلانے کا سلسلہ چلتا رہا ) يہاں تک کہ انبياء ؤ مرسلين ( لوگوں کي ہدايت کي طرف سے ) نااميد ہوگئے اور ( کفار نے ہماري طرف سے دي گئي ) مہلت کے سبب گمان کرليا کہ ان سے ( عذاب کا جو وعدہ کيا گيا ہے ) جھوٹا ہے اس وقت ہماري مدد ان کے پاس آپہنچي پس جن کے لئے ہم نے چاہا نجات پاگئے اور ہمارا عذاب تو جو لوگ مجرم ہيں ان سے واپس نہيں کيا جاتا -

 اس سے قبل خداوند عالم نے اپن حبيب کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کيا تھا کہ آپ کي طرح تمام انبياء الہي رسالت کے حامل رہے ہيں اور راہ حق ميں ان کي تبليغ شناخت و بصيرت پر استوار رہي ہے اللہ نے اپنے نبيوں اور رسولوں کو خود ان کي قوم اور بستيوں کے جانے پہچانے مردوں کے درميان سے مبعوث کيا اور وحي کے ذريعہ ان تک پيغامات پہنچا کرلوگوں کي ہدايت کا سامان فراہم کيا ہے يہ بستياں اگر چہ اب نابود ہوچکي ہيں اور اب اس آيت ميں پيغمبر اسلام (ص) سے اپني گفتگو کو جاري رکھتے ہوئے خدا فرماتا ہے کہ انبياء کي دعوت اور لوگوں کي مخالفت کا يہ سلسلہ يونہي چلتا رہا اور جب بھي انبياء عليہم السلام لوگوں کي ہدايت کے سلسلے ميں نااميدي سے قريب ہوئے اور لوگوں نے يہ سمجھا کہ انبياء (ع) کي طرف سے کيا گيا عذاب و عتاب کا وعدہ جھوٹا ہے ( انبياء ع کے حق ميں) اللہ کي مدد آپہنچي اور خدا نے جن لوگوں کي نجات مقدر کردي تھي ايمان لاکر نجات پاگئے ليکن جو لوگ کسي بھي طرح حق کو قبول نہ کرتے عذاب ميں گرفتار ہوجاتے تھے جس کي طرف آيت کے آخري حصے ميں اشارہ ہے کہ ہمارا عذاب مجرموں کي طرف جا کر نہيں پلٹتا يعني عذاب، سر پر ديکھ کر جو لوگ پچھتاتے ہيں انہيں ہم عذاب سے نہيں بخشتے سب کو نابود کرديتے ہيں - جہاں تک قوم کے ايمان نہ لانے کي بات ہے سورۂ ہود (ع) کي آيت 36 ميں جناب نوح (ع) کي قوم سے متعلق قرآن کہتا ہے "و اوحي الي نوح انّہ لن يّؤمن من قومک الّا من قد آمن" اور نوح (ع) کي طرف يہ وحي کردي گئي کہ تمہاري قوم ميں اب کوئي ايمان نہيں لائے گا سوائے ان کے جو ايمان لاچکے ہيں "فلا تبتئس بما کانوا يفعلون" پس قوم کے کرتوت سے رنجيدہ و مايوس ہونے کي ضرورت نہيں ہے اور اسي طرح کي صورتحال، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعيب، حضرت موسي اور حضرت عيسي عليہم السلام کي قوموں کے سلسلے ميں بھي قرآن نے بيان کي ہے - اور جہاں تک عذاب خدا کي طرف سے خبردار کرنے پر اپنے نبيوں کو قوم کے جھٹلانے کي بات ہے حضرت نوح (ع) کي داستان ميں اس کا بھي ذکر موجود ہے سورۂ ہود (ع) کي ستائيسويں آيت ميں قوم نوح (ع) کي ترجماني ميں کہا گيا ہے کہ : "بل نظنّکم کذبين " بلکہ ہم تمہيں جھوٹا خيال کرتے ہيں -  يا سورۂ اسري کي آيت 101 کے مطابق فرعون حضرت موسي عليہ السلام سے کہتا ہے: "انّي لاظنّک يموسي مسحورا" يعني ميں تو گمان کرتا ہوں کہ تم پر کسي نے جادو کرديا ہے جو اس طرح کي باتيں کررہے ہو- 1. اور ايمان کے نتيجہ ميں خدا کي جانب سے نصرت و مدد سے متعلق بھي سورہ روم کي آيت 47 ميں واضح ذکر موجود ہے ارشاد ہوتا ہے "وکان حقّا علينا نصر المومنين" يعني صاحبان ايمان کي مدد کرنا ہمارا حق تھا - يا سورۂ ہود(ع) کي آيت 66 ميں ارشاد ہوتا ہے"نجينا صالحا" و الّذين امنوا معہ" ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ ايمان لانے والوں کو نجات عطا کردي اور اب سورۂ يوسف(ع) کي آيت ايک سو گيارہ / ارشاد ہوتا ہے:

"لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُوْلِي الأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ" (يعني گزشتہ اقوام کے) ان قصوں ميں يقينا" صاحبان عقل و خرد کے لئے عبرت و نصيحت ہے يہ (قرآن) وہ کلام نہيں ہے جو جھوٹي باتوں کا مجموعہ ہو بلکہ ان کتابوں کي تصديق کرنا ہے جو پہلے آسمان سے نازل ہوچکي ہيں يہ مومنين کے لئے ہر بات کو صاف صاف بيان کرنے والي ہدايت و رحمت ( کي کتاب) ہے -

 يہ سورۂ يوسف (ع) کي آخري آيت ہے اور اس ميں لوگوں کو يہ پيغام ديا گيا ہے کہ قرآن حکيم ميں بيان شدہ پچھلي قوموں اور نبيوں کي داستانيں صرف زيب داستان کے لئے نہيں ہيں مثال کے طور پر حضرت يوسف عليہ السلام اور ان کے بھائيوں کي بيان شدہ داستان عبرت و نصيحت حاصل کرنے کے لئے بيان ہوئي ہے قرآن کوئي تاريخ، قصہ گوئي يا داستان کي کتاب نہيں ہے کہ آدمي اس کو پڑھے سنے اور بھول جائے يہ کتاب ہدايت ہے ليکن " ہدي للمتقين" ہے اس سے صاحبان تقوي رہنمائي حاصل کرتے ہيں اور اس کے قصوں سے بھي صاحبان عقل و خرد سبق اور عبرت و نصيحت حاصل کرتے ہيں دوسرے لوگ بہت ممکن ہے اس کو صرف ايک داستان اور واقعہ کي حيثيت سے پڑھيں، سنيں اور توجہ دئے بغير گزر جائيں ليکن جن کو اللہ نے عقل اور تدبر و فراست کي نعمت سے نوازا ہے اور قرآن کو ايک آسماني کتاب سمجھ کر ديکھتے اور استفادہ کرتے ہيں وہ بخوبي اس حقيقت کو محسوس کرتے ہيں کہ اللہ کا کلام ہے اور گزشتہ آسماني کتابوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے پس اس کي ہر بات الہي مقاصد کي حامل ہے ہم کو اصل مقصد تک پہنچنے کي کوشش کرني چاہئے اور عقل و فکر سے کام لے کر وہ قرآني حقائق کو سمجھتے اور پھر اس سے سبق ليتے ہيں، زندگي کے تمام امور ميں يہ کتاب منجملہ حضرت يوسف (ع) کي داستان رہنمائي کرتي ہے خانداني مسائل، معاشرت کا سليقہ اقتصادي مشکلات،  سياست کي راہ و روش، ہنر و فن اور ثقافت کي باريکياں سب کچھ اس ميں موجود ہے - اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ :

اللہ کي ايک سنت رہي ہے کہ وہ کافروں اور مشرکوں کو بھي توبہ و اصلاح کا موقع ديتا ہے عذاب ميں تاخير اور مرنے کے بعد روز قيامت پر حساب کتاب کو موقوف کرنے ميں بھي يہي مصلحت پوشيدہ ہے بندوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے -

البتہ اللہ کي جانب سے عذاب اور سزائيں صرف روز قيامت سے مخصوص نہيں ہيں کبھي کبھي جب گناہ و معصيت اجتماعي صورت اختيار کرليتي ہے تو پوري قوم اور آبادي الہي قہر کا شکار ہوجاتي ہے -

مومنين کو اللہ کي رحمت سے کبھي بھي مايوس نہيں ہونا چاہئے انبياء  عليہم السلام بھي اپني امت کي گمراہيوں کي طرف سے رنجيدہ ہوتے تھے مگر خدا سے لطف و عنايت کي دعا کرتے تھے اور جب اصلاح کي کوئي رمق نظر نہ آتي اللہ ان کي مدد کرتا اور اہل نجات کو ايمان کي توفيق عطا کرکے گمراہي سے نجات عطا کرديتا تھا -

اسي طرح کفار کو بھي مستقبل کي طرف سے اميدوار نہيں رہنا چاہئے کيونکہ " گيا وقت پھر ہاتھ آتا نہيں " اگر حالت کفر ميں مرگئے تو اللہ کے عذاب سے کوئي نہيں بچا سکتا-

قرآن ميں بيان شدہ داستانيں عين حقيقت ہيں اور عبرت و نصيحت کے لئے بيان ہوئي ہيں صرف ذہني تخيلات و تفکرات کا نتيجہ نہيں ہيں لہذا ان واقعات پر ايمان و يقين بھي ضروري ہے -

حضرت يوسف عليہ السلام تمام سازشوں اور کدورتوں کے باوجود الہي لطف و عنايت کے تحت قوت و اقتدار کي اعلي ترين منزلوں پر فائز ہوئے اور اس داستان ميں صاحبان عقل و بصيرت کے لئے بے شمار نصيحتيں ہيں خدا کے بندوں کو اس سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور مؤمنين کو خاص طور پر ياد رکھنا چاہئے کہ سخت ترين حالات ميں بھي خدا کو فراموش نہ کريں کيونکہ وہ بدترين حالات ميں ان کي حفاظت کرتا ہے -

بشکريہ آئي آر آئي بي


متعلقہ تحريريں:

سورهء يوسف (ع) کي يت نمبر 99-96 کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 95-92 کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 88-91  کي تفسير

سورۂ يوسف (ع) کي آيت نمبر  87 - 85 کي تفسير

سورۂ يوسف ( ع) کي آيت نمبر 84 - 80 کي تفسير