• صارفین کی تعداد :
  • 1613
  • 7/30/2011
  • تاريخ :

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں ( حصّہ چہارم )

بسم الله الرحمن الرحيم
ہم ميں سے اکثر لوگوں کے فہم وادراک کا يہي حال ہے اور لوگوں کي جو اقليت کسي حد تک اپني فکري آزادي کو محفوظ کرسکي ہے اور اپنے دماغ کے سرمايہ کو مکمل طور پر اغيار کے ہاتھوں لوٹنے سے محفوظ رکھا ہے وہ بھي تعدّد شخصيت کے شکار ہوئے ہيں -يہ لوگ ايک طرف سے مغربي افکار کے دلدادہ اور دوسري طرف سے اپنے مشرقي اورموروثي افکار کے غلام بن گئے ہيں اور کھلم کھلا کوشش کر رہے ہيں کہ ان دو متضاد شخصيتوں کو آپس ميں ملا ديں -

ہمارا ايک دانشور مؤلف ''اسلامي ڈيمو کريسي ''کے عنوان سے اسلام کي روش کو ڈيمو کريسي کي روش سے تطبيق کرتا ہے تو دوسرا''اسلامي کميونزم '' کے عنوان سے کميونزم کي روش اور طبقاتي اختلافات کو دور کرنے کے طريقہ کار کو دين سے نکال کر پش کرتا ہے-

ايک عجيب داستان ہے !اگر حقيقت ميں اسلام کي فطانت اور حقيقت پسندي صرف اسي ميں ہے کہ واضح اور روشن ترين ظاہرداري کے ساتھ ہمارے پاس آئي ہوئي ڈيمو کريسي اورکميونزم کي زندہ روح اس ميں ہوني چاہئے تو پھر کيا ضرورت ہے کہ ہم چودہ سو سال پرانے چند افکار کو انتہائي رنج ومحنت کے ساتھ ان سے تطبيق کرکے اپنے سينہ پر لٹکا ديں !

اگر اسلام ايک مستقل حقيقت رکھتا ہے اور يہ حقيقت ايک جدا، زندہ اور گراں بہا حقيقت ہے تو کيا ضرورت ہے ہم اس کے خداداد حسن کو بناوٹي سجاوٹ سے پردہ پوشي کريں اورمصنوعي صورت ميں اسے خريداروں کے سامنے پيش کريں !

حاليہ چند برسوں کے دوراں ، يعني دوسري عالمي جنگ کے بعد مغربي دانشوروں نے اديان ومذاہب کے بارے ميں ايک خاص جوش و جذبہ کے ساتھ بحث وتحقيق کرني شروع کي ہے اور اپني تحقيق کے نتائج کو ہر روز منتشر کرتے ہيں اور بے شک ہم بھي ،مИورہ تقليد و تبعيت کے پيش نظر، کم و بيش اسي راہ پر چلتے ہوئے دين مقدس اسلام کے بارے ميں چند سوالات کو اپني گفتگو کا موضوع قرارديتے ہيں :

کيا دين و مذہب سب حق ہے ؟ کيا آسماني اديان اجتماعي اصطلاحات کي ايک کڑي کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ کيا دين روح کي پاکي اور اخلاقي اصلاح کے علاوہ کوئي دوسرا مقصد رکھتا ہے ؟ کيا مذہبي احکام اسي شکل و صورت ميں ہميشہ باقي رہيں گے؟ کيا دين کا عملي احکام کے علاوہ کوئي اور مقصد بھي ہے؟ کيا اسلام ہر زمانہ کي ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے ؟ کيا اورکيا...

البتہ جب ايک محقق دانشورايک مسئلہ سے نمٹتا ہے تو وہ سب سے پہلے مسئلہ کو مسلّم علمي معياروں سے تطبيق دے کر اس کي تفسير کرتا ہے پھر اس کے صحيح يا غلط ہونے کے بارے ميں بحث کرکے اپنا نظريہ پيش کرتا ہے -

تحرير :  استاد علامہ طباطبائي

mahdimission


متعلقہ تحريريں :

پيغبر کي بيوي پر تہمت (حديث افک)

غزوہء بني مصطلق يا مريسيع

تبليغ اسلام کے سلسلے ميں چند پيچيدگياں اور اُن کے حل

مدينہ لشکر کفار کے محاصرے ميں

لشکر کي روانگي سے رسول خدا کي آگاہي