• صارفین کی تعداد :
  • 3469
  • 6/19/2011
  • تاريخ :

اسعد وحيد القاسم

اسعد وحيد القاسم

1965 ع ميں فلسطين ميں ايك حنفي مذھب ركھنے والے خاندان ميں پيدا ھوئے، بكالور يوس كي ڈگري سٹي انجينيرنيگ ميں حاصل كي، اور ماجسٹر كي ڈگري، بلڈنگ سازي ميں حاصل كي اور مديريت عامہ ميں ڈاكٹريٹ كي ڈگري حاصل كي، تعليم كے دوران بعض وھابي كتابوں سے مطلع ھوئے جس ميں شيعہ مذھب پر حملہ تھے، نتيجہ ميں شيعہ مذھب كے متعلق كتابوں كے مطالعہ كا شوق پيدا ھوا جس كا نتيجہ يہ ھوا كہ دو سال مطالعہ كے بعد اپنے شيعہ ھونے كا اعلان كرديا۔

شيعيت كي طرف پھلا قدم

ڈاكٹر اسعد كھتے ھیں : میں نے مذھبی اختلافات كے بارے میں مطالعہ فلیپین میں تعلیم كے دوران ۱۹۸۷ع میں شروع كیا، چونكہ میں نے دیكھا كچھ گروہ شیعہ نامی افراد پر كفر كا فتوای لگاتے ھیں، اس وقت میرا كوئی مقصد بھی نھیں تھا كہ اس طرح كے مسائل میں خود كو مبتلا كروں، مجھے اس كا شعور بھی نھیں تھا اور نہ كوئی ضرورت محسوس كر رھا تھا، حد اكثر میں اتنا جانتا تھا كہ شیعہ مسلمانوں كا ایك گروہ ھے، وہ لوگ سنی كی طرح نھیں ھوتے ان كے كافر ھونے كی كوئی وجہ نھیں ھے، وہ لوگ حضرت علی كو باقی اصحاب پیامبر سے بھتر جانتے ھیں، اماموں كی قبروں كا خیال و اھتمام ركھتے ھیں، مجھے كوئی ضرورت محسوس نھیں ھورھی تھی كہ شیعہ سنی میں كیا فرق ھے ۔ تحقیق یا مطالعہ كروں چونكہ میرا عقیدہ تھا كہ اس طرح سے مسئلہ میں الجھنے سے كوئی نتیجہ نھیں ھے ۔

مذاھب كے درميان صلح و مصالحت

ڈاكٹر اسعد وحيد القاسم كا نظريہ تھا كہ ھر ايك كو مذھب اختيار كرنے كا حق ھے اور اختلافي مسائل كو حل كرنے كي راہ تلاش كرنا ضروري ھے، لوگ ايك دوسرے كا احترام كريں، گفتگو كے ذريعہ نتيجہ اور حق تك پہونچيں، تعصب، خودگرائي اور انانيت سے پرھيز كريں چونكہ يہ سب اندھي پيروي كے اسباب فراھم كرتے ھيں اور گفتگو و احترام كے ذريعہ اسلامي معاشرہ كو قدرت، طاقت، عظمت و ترقي مل سكتي ھے ۔

وھابي علماء شيخ اسعد كے اس نظريہ كو تسليم نھيں كرتے تھے ان كے خلاف پروپيگنڈہ، پابندياں شروع كرديں، اس كے معني يہ تھے كہ يا ميں سني رھوں، شيعوں كو كافر كھوں يا شيعہ ھوجاؤں اور ان كے تمام عقائد كا معتقد ھوجاؤں، يہ لوگ طالب علموں كے درميان ايسي كتابيں تقسيم كرتے تھے جو شيعوں كو كافر كھتي تھيں اور يھوديوں سے زيادہ خطرناك شيعوں كو بتاتي تھيں۔

اسي كا نتيجہ تھا كہ ميں نے مزيد مطالعہ كرنا شروع كرديا تاكہ ميرے اسلامي تاريخ كے سوالوں كا جواب مل سكے جو جواب اب تك نھيں مل سكا تھا وہ مسئلہ خلافت و سياسي نظام حكومت كا اسلامي تصور تھا ۔

بحث كا ثمرہ

اس سلسلہ ميں ميں نے المراجعات نامي كتاب كا مطالعہ كيا، اس كتاب ميں جلب توجہ بات يہ ھے كہ كتاب قرآن و سنت كے ذريعہ دليليں قائم كرتي ھے صحيح مسلم و صحيح بخاري سے روايات نقل كرتي ھے، جس پر بعض وھابي علماء نے مجھ سے كھا كہ اگر اس طرح كي روايت بخاري ميں ھوتي تو اس كو كافر كھہ ديتے ۔ چونكہ ھم ميں سے كسي كے پاس صحيح مسلم و صحيح بخاري نھيں تھي تلاش كيا، ايك فليپيني كے اسلامي تعليمي ادارہ ميں كتاب مل گئي، جس كے بعد ان تمام روايتوں كي تحقيق شروع كردي جو كتاب المراجعات ميں اس كتاب كے حوالہ سے ذكر تھيں، تمام روايتيں اسي طرح معتبر كتابوں ميں تھيں جس طرح مولف كتاب المراجعات نے لكھا تھا اس وقت مجھے يقين ھوگيا كہ شيعوں كا دعوي، اور اماموں كي خلافت كا ان كا عقيدہ صحيح ھے، امام علي عليہ السلام سے امام مھدي عليہ السلام تك ۔

ايك مذھب سے دوسرے مذھب كي طرف

ابتدا ميں ميرے ذھن ميں نھيں تھا كہ ميں سني مذھب ترك كردوں اور اب بھي ميرا عقيدہ نھيں كہ ميں نے سني مذھب ترك كرديا ھے اور حقانيت اھل بيت و استحقاق خلافت ائمہ ك عقيدہ كا مطلب يہ نھيں ھے كہ ميں سني باقي نہ رھوں، بلكہ اس كو اپنے عقائد كي ترميم اور اصلاح سمجھتا تھا ۔

اگر سني مذھب كے معني ھيں سنت رسول پر قائم رھنا تو اھل بيت كي معرفت كے ساتھ سنت رسول كو بھتر طريقہ سے اپنايا جاسكتا ھے يھي وہ لوگ ھيں جو سنت پر پابند ھيں ليكن جو ميرے ارد گرد تھے ان لوگوں نے مجھ كو شيعہ كھنا شروع كرديا، پھر ميں نے بھي شيعہ ھونے كا اعلان كرديا ميرا عقيدہ ھے كہ مسلمانوں كو مذھب كي بنياد پر نھيں، صدق نيت و اخلاص كي بنياد پر تقسيم كيا جاسكتا ھے ورنہ ھمارے پاس ايك ظاھري اسلام ھوگا جس ميں بے معني رسومات ھونگے اور تعصب، حقيقي مسلمان وہ ھيں جو دل اور روح كے ساتھ تسليم امر پروردگار ھوتے ھيں حق جانتے ھيں حق پر عمل كرتے ھيں ۔

خاندان اور سماج كا رد عمل

اس سلسلہ ميں ڈاكٹر اسعد كھتے ھيں : مجھے اس چيز كي فكر نھيں تھي كہ ميرے گھر اور ميرے سماج كا كيا رد عمل ھوگا چونكہ مذھب سے مذھب كي طرف منتقل ھونا شخصي مسئلہ ھے ھر ايك كي اپني عقل و سمجھ ھے، خاندان، معاشرہ اور حسب كام نھيں آئيں گے، حسن نصيب تھا كہ ميرے گھر كے افراد نے كوئي نامناسب رد عمل ظاھر نھيں كيا اور اب تك ھمارے روابط اچھے ھيں، مگر سماج نے سخت رد عمل دكھايا ? ھمارا سماج دين تعصب، قبيلہ كي فكر ركھتا ھے، جو بھي ايسا كرتا ھے اس سے نفرت، بغض ركھنے لگتے ھيں بھت كم ھوتا ھے كہ اس كو انصاف كي نظر سے نظر كريں، بھت سارے بچھڑ گئے، آخر امر بعض دوسرے دوستوں كو اپنايا، ھمارے دوستوں ميں بھت سے اھل علم بھي ھيں ۔ سوچ اور سمجھ كي ضرورت ھے ۔

تاليفات

۱۔ أزمۃ الخلافۃ و الامامۃ و آثارھا المعاصرة

یعنی، امامت و خلافت اور اس كے جدید آثار، كتاب ۱۴۱۸ ھ میں دار المصطفٰی سے شایع ھوئی یہ كتاب چار فصلوں پر مشتمل ھے ۔

۱۔ امامت و خلافت كے متعلق شریعت اسلام كا نظریہ ۔

۲۔ امامت و خلافت كی كھانی ۔

۳۔ خلیفہ و امام كی شخصیت ۔

۴۔ امامت و خلافت كی مشكل كا اسلام اور مسلمانوں پر اثر ۔

۲۔ شیعہ اثنا عشری كی ایك حقیقت

یہ كتاب ۱۴۲۱ ھ موسسۂ معارف اسلامی سے شایع ھوئی ۔

كتاب بعض عقیدتی مسائل پر بحث كرتی ھے جیسے امامت، عدالت، اصحاب، قرآن اور شیعہ، شیعہ اور سنت نبوی، متعہ، امام مھدی ۔

۳۔ اسلامی مدیریت پر ایك تحقیق ۔ ڈاكٹر اسعد كی تھیسس تھی ۔

گروہ ترجمہ سايٹ صادقين


متعلقہ تحريريں:

آمنہ بنت الہدي? ، ايک جليل القدرخاتون!

ڈاکٹر موسي ابو مرزوق  سے انٹرويو

آي? اللہ العظمي سيد محمد حسين فضل اللہ دام ظلہ کا انٹرويو

اسعد بن علي

احمد حسين يعقوب