• صارفین کی تعداد :
  • 3453
  • 6/13/2011
  • تاريخ :

 قرآن کريم کس طرح معجزہ ہے؟ (حصّہ سوّم)

بسم الله الرحمن الرحيم

 ڈاکٹر مسز لورا واکسياگليري: يہ ناٹل يونيورسٹي کي پروفيسر ہے، ”پيشرفت سريع اسلام“ ميں لکھتي ہے:

”اسلام کی کتاب آسمانی اعجاز کا ایک نمونہ ہے قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی، قرآن کا طرز و اسلوب گزشتہ ادبیات میں نہیں پایا جاتا، اور یہ طرز روحِ انسانی میں جو تاثیر پیدا کرتا ہے وہ اس کے امتیازات اور بلندیوں سے پیدا ہوتی ہے کس طرح ممکن ہے کہ یہ اعجاز آمیز کتاب ،محمدکی خود ساختہ ہو جب کہ وہ ایک ایسا عرب تھا جس نے تعلیم حاصل نہیں کی، ہمیں اس کتاب میں علوم کے خزانے اور ذخیرے نظر آتے ہیں جو نہایت ہوش مند اشخاص، بزرگ ترین فلاسفہ اور قوی ترین سیاست مدارو اور قانون داں لوگوں کی استعداد اور ظرفیت سے بلند ہیں، اسی بنا پر قرآن کریم کسی تعلیم یافتہ مفکر اور عالم کا کلام نہیں ہوسکتا“۔

 قرآن مجید کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے درج ذیل مطالب پر توجہ فرمائیں:

” انسانی خواہشات میں ہمیشہ تبدیلی آتی رہتی ہے، تکامل اور ترقی کا قانون عام حالات میں انسان کی فکر و نظر سے متاثر رہتا ہے، اور زمانہ کی رفتار کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے، اگر ہم غور کریں تو ایک موٴلف کی تحریر ایک جیسی نہیں ہوتی، بلکہ کتاب کے شروع اورآخر میں فرق ہوتاہے، خصوصاً اگر کوئی شخص ایسے مختلف حوادث سے گزرا ہو، جو ایک فکری ، اجتماعی اور اعتقادی انقلاب کے باعث ہوں، تو ایسے شخص کے کلام میں یکسوئی اور وحدت کا پایا جانا مشکل ہے، خصوصاً اگر اس نے تعلیم بھی حاصل نہ کی ہو، اور اس نے ایک پسماندہ علاقہ میں پرورش پائی ہو۔

لیکن قرآن کریم ۲۳ /سال کی مدت میں اس وقت کے لوگوں کی تربیتی ضرورت کے مطابق نازل ہوا ہے، جبکہ اس وقت کے حالات مختلف تھے، لیکن یہ کتاب موضوعات کے بارے میں متنوع گفتگو کرتی ہے، اور معمولی کتابوں کی طرح صرف ایک اجتماعی یا سیاسی یا فلسفی یا حقوقی یا تاریخی بحث نہیں کرتی ، بلکہ کبھی توحید اور اسرار خلقت سے بحث کرتی ہے اور کبھی احکام و قوانین اور آداب و رسوم کی بحث کرتی ہے اور کبھی گزشتہ امتوں اور ان کے ہلا دینے والے واقعات کو بیان کرتی ہے ، ایک موقع پر وعظ و نصیحت ، عبادت اور انسان کے خدا سے رابطہ کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔

اور ڈاکٹر ”گوسٹاولبن“ کے مطابق مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید صرف مذہبی تعلیمات اور احکام میں منحصر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے سیاسی اور اجتماعی احکام بھی اس میں درج ہیں۔

عام طور پر ایسی کتاب میں متضاد باتیں، متناقض گفتگو اور بہت زیادہ اتار چڑھاؤپایا جاتاہے، لیکن اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی آیات ہر لحاظ سے ہم آہنگ او رہر قسم کی تناقض گوئی سے خالی ہیں، جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کا نتیجہٴ فکر نہیں ہے بلکہ خداوندعالم کی طرف سے ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے“۔

سورہ ہود کی آیت نمبر ۱۲سے ۱۴ تک ایک بار پھر قرآن مجید کے معجزہ ہونے کو بیان کررہی ہیں یہ ایک عام گفتگو نہیں ہے، اور کسی انسان کا نتیجہ فکر نہیں ہے، بلکہ یہ آسمانی وحی ہے جس کا سرچشمہ خداوندعالم کا لا محدود علم و قدرت ہے ،اور اسی وجہ سے چیلنج کرتی ہے اور تمام دنیا والوں کو مقابلہ کی دعوت دیتی ہے ، لیکن خود پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ کے لوگ بلکہ آج تک بھی، اس کی مثل لانے سے عاجز ہیں ، چنانچہ انھوں نےبہت سی مشکلات کو قبول کیا ہے لیکن قرآنی آیات سے مقابلہ نہ کیا، جس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ نوع بشر اس کا جواب نہیںلا سکتا تو اگر یہ معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

قرآن کی یہ آواز اب بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، اور یہ ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ اب بھی دنیا والوں کو اپنے مقابلہ کی دعوت دے رہا ہے اور دنیا کی تمام علمی محفلوں کو چیلنج کررہا ہے ، اور یہی نہیں کہ صرف فصاحت و بلاغت یعنی تحریر کی حلاوت،اس کی جذابیت اور واضح مفہوم کو چیلنج کیا ہے بلکہ مضامین کے لحاظ سے بھی چیلنج ہے ایسے علوم جو اس وقت کے لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے، ایسے قوانین و احکام جو انسان کی سعادت اور نجات کا باعث ہیں، ایسا بیان جو ہر طرح کے تناقض او رٹکراؤ سے خالی ہے، ایسی تاریخ جو ہر طرح کے خرافات اور بےہو دہ باتوں سے خالی ہو۔

یہاں تک سید قطب اپنی تفسیر ”فی ظلال“ میں بیان کرتے ہیں کہ (سابق) روس کے مستشرقین نے ۱۹۵۴ءء میں ایک کانفرس کی تو بہت سے مادیوں نے قرآن مجید میں عیب نکالنا چاہے

تو کہا:

یہ کتاب ایک انسان (محمد) کا نتیجہ فکر نہیں ہوسکتی بلکہ ایک بڑے گروہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے! یہاں تک کہ اس کے بارے میں یہ بھی یقین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جزیرة العرب میں لکھی گئی ہے بلکہ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس کا کچھ حصہ جزیرة العرب سے باہر لکھا گیا ہے!!

چونکہ یہ لوگ خدا اور وحی کا انکار کرتے ہیں ،دوسری طرف قرآن مجید کو جزیرة العرب کے انسانی افکار کا نتیجہ نہ مان سکے، لہٰذا انھوں نے ایک مضحکہ خیز بات کہی اور اس کو عرب اور غیر عرب لوگوں کا نتیجہ فکر قرار دے دیا، جبکہ تاریخ اس بات کا بالکل انکار کرتی ہے۔

ختم شد۔

بشکريہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحريريں:

قرا?نِ کريم: جاوداں ال?ہي معجزہ

ہميشہ باقي رہنے والا معجزہ

کيا قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت ميں منحصر ہے؟

’’اعجاز قرا?ن ‘‘ پر سچے واقعات

’’اعجاز قرا?ن ‘‘ پر سچے واقعات (حصہ دوّم)